Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
57 - 676
{2}… نافرمانوں کے لئے پُر شور جہنم ہے اور حشر کے دن اللہ تَعَالٰی کی سخت ناراضگی ہے۔
{3}… اگر تو نارِ جہنم پر راضی ہے تو بے شک گناہ کرتا رہ ، ورنہ گناہوں سے رک جا۔
{4}… تونے اپنے گناہوں کے بدلے اپنی جان کو رہن رکھ دیا ہے، اس کو چھڑانے کی کوشش کر۔
	عتبہ نے پھر چیخ ماری اور بے ہوش ہوگیا، جب ہوش آیا تو کہنے لگا: اے شیخ! کیا مجھ جیسے بدبخت کی ربِ رحیم توبہ قبول کرلے گا؟ آپ نے کہا: درگزر کرنیوالا رب ظالم بندے کی توبہ قبول فرمالیتا ہے، اس وقت عتبہ نے سراٹھا کر رب سے تین دعائیں کیں :
{1}…اے اللہ اگر تو نے میرے گناہوں کو معاف اور میری توبہ کو قبول کرلیا ہے تو ایسے حافظے اور عقل سے میری عزت افزائی فرماکہ میں قرآن مجید اور علومِ دین میں سے جو کچھ بھی سنوں ، اُسے کبھی فراموش نہ کروں۔ 
{2}…اے اللہ!  مجھے ایسی آواز عنایت فرماکہ میری قرأت کو سُن کر سخت سے سخت دل بھی موم ہوجائے۔
{3}…اے اللہ مجھے رزقِ حلال عطا فرما اور ایسے طریقے سے دے جس کا میں تصور بھی نہ کرسکوں ۔ 
	اللہ نے عتبہ کی تینوں دعائیں قبول کرلیں ، اس کا حافظہ اور فہم و فراست بڑھ گئی اور جب وہ قرآن کی تلاوت کرتا تو ہر سننے والا گناہوں سے تائب ہوجاتا تھا اور اس کے گھر میں ہر روز ایک پیالہ شوربہ کا اور دوروٹیاں (رزقِ حلال سے) پہنچ جاتیں ، اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کون رکھ جاتا ہے اور عتبہ غلام کی ساری زندگی ایسا ہی ہوتا رہا اور یہ اس شخص کا حال ہے جس نے اللہ تَعَالٰی سے لَو لگائی۔اِنَّ اللہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا بے شک اللہ تَعَالٰی نیک عمل کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
سوال: کسی عالم سے پوچھا گیا کہ جب بندہ توبہ کرتا ہے تو کیا اسے اپنی توبہ کے مقبول یا غیر مقبول ہونے کا پتہ چل جاتا ہے؟
جواب:عالم نے جواب دیا: ایسی مکمل بات تو نہیں البتہ کچھ نشانیاں ہیں جن سے توبہ کی قبولیت کا پتہ چلتا ہے؛ وہ اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے، اس کے دل سے خوشی غائب ہوجاتی ہے، ہر دم اللہ کو موجود سمجھنے لگتا ہے، نیکوں کے قریب اور بُروں سے دور رہنے لگتا ہے، دنیا کی تھوڑی سی نعمت کو عظیم اور آخرت کے لئے کثیر نیکیوں کو بھی قلیل سمجھتا ہے، اپنے دل کو ہر وقت فرائض خداوندی میں مصروف اور اپنی زبان کو بند رکھتا ہے، ہمیشہ اپنے گذشتہ گناہوں پر غوروفکر کرتا رہتا ہے اور غم اور پریشانی کواپنے لئے لازم کرلیتا ہے۔