لگا: مجھے اس عورت کا پتہ بتلاؤ جس نے مجھ سے مسئلہ پوچھا تھا ،یہاں تک کہ بچے مجھے پاگل سمجھنے لگے، بالآخر میں نے اس عورت کو تلاش کر ہی لیا اور اسے یہ آیت سنائی جب میں ’’ فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰ تِہِمُ حَسَنٰتٍ ‘‘(1) تک سنا چکا تو وہ خوشی سے دیوانی ہوگئی اور کہنے لگی: میں نے اپنا باغ اللہ اور رسول کے لئے بخش دیا۔(2)
عتبہ کا عجیب واقعہ
عتبۃ الغلام (رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ)جس کی فتنہ انگیزی اور شراب نوشی کی داستانیں مشہور تھیں ، ایک دن حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہکی مجلس میں آیا، اس وقت حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ آیت اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللہ(3) کی تفسیر بیان کررہے تھے، یعنی کیا مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہسے ڈریں ۔
آپ نے اس آیت کی ایسی تشریح کی کہ لوگ رونے لگے، ایک جوان مجلس میں کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اے بندئہ مومن! کیا مجھ جیسا فاسق و فاجر بھی اگر توبہ کر لے تو اللہ تَعَالٰی قبول فرمائے گا؟ آپ نے فرمایا :ہاں ، اللہ تَعَالٰی تیرے گناہوں کو معاف کردیگا، جب عتبۃ الغلام نے یہ بات سنی تو اس کا چہرہ زرد پڑگیا اور کانپتے ہوئے چیخ مار کر بے ہوش ہوگیا، جب اسے ہوش آیا تو حضرتِ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ نے اس کے قریب آکر یہ شعر پڑھے:
ایا شابا لرب العرش عاصی اتدری ماجزاء ذوی المعاصی
سعیر للعصاۃ لھا زفیر وغیظ یوم یؤخذ بالنواصی
فان تصبر علی النیران فاعصہ والا کن عن العصیان قاصی
وفیما قد کسبت من الخطایا رھنت النفس فاجھد فی الخلاصی
{1}… اے اللہ کے نافرمان جوان! جانتا ہے نافرمانی کی سزا کیا ہے؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ سے لے کر یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰ تِہِمُ حَسَنٰتٍ تک تینوں آیات کا ترجمہ یوں ہے:
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو اللہکے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہنے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذِلت سے رہے گا مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔(پ۱۹،الفرقان:۷۰)
2…کتاب التوابین للمقدسی، ص۱۰۴ و بحر العلوم لابی اللیث السمرقندی، ۲/۵۴۶
3…ترجمۂکنزالایمان:کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لئے۔ (پ۲۷،الحدید :۱۶)