ایک جوان کی شرمندگی
حضرتِ عمر رَضِی َاللہُ عَنْہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے، آپ نے ایک جوان کو دیکھا جو کپڑوں کے نیچے شراب کی بوتل چھپائے چلا آرہا تھا، آپ نے پوچھا: اے جوان! اس بوتل میں کیا لئے جارہے ہو؟ جوان بہت شرمندہ ہوا کہ میں کیسے کہوں اس بوتل میں شراب ہے؟ اس وقت اس جوان نے دِل ہی دِل میں دعا مانگی:اے اللہ! مجھے حضرتِ عمر رَضِی َاللہُ عَنْہ کے رُوبرو شرمندگی اور رُسوائی سے بچا! میرے عیب کو ڈھانپ لے، میں پھر کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ جوان نے حضرتِ عمر کو جواب دیا: امیرالمؤمنین! یہ سرکہ ہے، آپ نے فرمایا: مجھے دِکھاؤ تو سہی !چنانچہ آپ نے دیکھا تو وہ سرکہ تھا۔
اے انسان! ذرا غور کر، ایک بندہ بندے کے ڈر سے خلوصِ دل سے تائب ہوا تو اللہ نے اس کی شراب کو سرکہ میں تبدیل کردیا، اسی طرح اگر کوئی گنہگار اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوکر توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کی نافرمانیوں کی شراب کو فرمانبرداری کے سرکہ میں تبدیل کردیتا ہے (جیسا کہ اس جوان کے معاملہ میں ہوا جو اپنی برائیاں اپنے دفتر میں لکھ لیتا تھا)۔
حکایت:
حضرتِ ابوہریرہ رَضِی َاللہُ عَنْہفرماتے ہیں کہ ایک رات میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھ کر باہر نکلا، راستہ میں مجھے ایک عورت ملی، اس نے مجھ سے پوچھا: میں نے ایک گناہ کرلیا ہے، کیا میں توبہ کرسکتی ہوں ؟ میں نے پوچھا تو نے کونسا گناہ کیا ہے؟ عورت بولی: میں نے زِنا کیا تھا اور جب اس زِنا سے بچہ پیدا ہوا تو میں نے اسے قتل کردیا۔ میں نے کہا: تو تباہ ہوگئی، تیرے لئے کوئی توبہ نہیں ہے۔ وہ عورت بے ہوش ہوکر گرپڑی اور میں اپنی را ہ چل دیا۔ تب میرے دل میں خیال آیا، میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے پوچھے بغیر یہ بات کیوں کہہ دی۔ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں آیا اور سارا واقعہ عرض کیا، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا:تم نے بہت برا کیا، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی!
وَالَّذِیْنَ لَا یَدْ عُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ (1)
اور وہ لوگ جو نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو۔الخ
ابوہریرہ رَضِی َاللہُ عَنْہکہتے ہیں : جونہی میں نے یہ بات سنی میں اس عورت کی تلاش میں نکلا اور ہر کسی سے پوچھنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔ (پ۱۹،الفرقان:۶۸)