فرمانِ الٰہی ہے: فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِرَبِّہٖ (1)
فاسق فاجر وہ ہے: جو شراب پیتا ہے،مَالِ حرام کھاتا ہے، بدکاریاں کرتا ہے، عبادت کو چھوڑ کر گناہوں میں زندگی بسر کرتا ہے مگر اللہ تَعَالٰی کو واحد مانتا ہے اور اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتا۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ فاسق کافر کی بخشش موت سے پہلے پہلے کلمۂ شہادت اور توبہ کے بغیر ناممکن ہے اور فاسق فاجر کی مغفرت موت سے پہلے توبہ اور پشیمانی کے ذریعہ ممکن ہے، اس لئے کہ ہر وہ گناہ جس کا تعلق خواہشاتِ نفسانیہ سے ہے اس کی مغفرت ممکن ہے اور ہر وہ گناہ جس کی بنیاد تکبر اور خود بینی ہے (2) اس کی مغفرت ناممکن ہے۔شیطان کی نافرمانی کی وجہ بھی یہی تکبر اور خود بینی تھی۔
پس اے انسان! تیرے لئے ضروری ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرلے شاید کہ اللہ تَعَالٰی تیرے گناہوں کو معاف فرمادے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے: کے
ھُوَالَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْاعَنِ السَّیِّاٰتِ (3)
اللہ وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں سے دَر گزر فرماتا ہے۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا ہے: گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔ (4)
حکایت :
ایک جوان تھا وہ جب بھی کوئی گناہ کرتا تو اسے اپنے دفتر میں لکھ لیتا تھا، ایک دفعہ اس نے کوئی گناہ کیا، جب لکھنے کیلئے دفتر کھولا تو دیکھا اس میں اس آیت کے سوا کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا:
فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ(5) اللہ تَعَالٰی ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کرتا ہے۔
شرک کی جگہ ایمان، بدکاری کی جگہ بخشش، گناہ کی جگہ عصمت اور نیکوکاری لکھ دی جاتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂکنزالایمان: تو اپنے رب کے حکم سے نکل گیا۔(پ۱۵، الکھف :۵۰)
2…یہاں تکبر سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّپر ایمان لانے سے تکبر کرنا ہے یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّپر ایمان نہ لائے اور اپنے کفر پر اڑا رہے۔ علمیہ
3…ترجمۂکنزالایمان: وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے دَرگزر فرماتا ہے۔ (پ۲۵،الشوری:۲۵)
4…ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ، ۴/۴۹۱، الحدیث۴۲۵۰
5…ترجمۂکنزالایمان:تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ (پ۱۹،الفرقان:۷۰)