Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
51 - 676
 دریافت فرمایا: جبریل نے جواب دیا: اللہ تَعَالٰی نے جہنم کو پیدا کیا اور اسے ہزار سال تک دَہکایا تو وہ سُرخ ہوگیا، پھر ہزار سال دہکایا تو سفید ہوگیا، جب مزید ایک ہزار سال تک دہکایا گیا تو وہ بالکل سیاہ و تاریک ہو گیا۔ اس رب کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے اگر جہنمیوں کا ایک کپڑا بھی دنیا میں ظاہر ہوجائے تو تمام لوگ فنا ہوجائیں ، اگر جہنم کے پانی کا ایک ڈَول دنیا کے پانیوں میں ملادیا جائے تو جو بھی چکھے، وہ مرجائے اور جہنم کی زنجیروں کا ایک ٹکڑا جس کا ذکر اللہ تَعَالٰی نے یوں فرمایا ہے:  فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا(1)ہر ٹکڑے کی لمبائی مشرق و مغرب کے طول کے برابر ہے، اگر اسے دنیا کے کسی بڑے سے بڑے پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ پگھل جائے گا اور اگر کسی جہنمی کو جہنم سے نکال کردنیا میں لایا جائے تو اس کی بدبو سے تمام مخلوق فنا ہوجائے۔(2)
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے جبریل سے کہا: یہ بتلاؤ کہ جہنم کے دروازے کیا ہمارے دروازوں جیسے ہیں ؟ جبریل نے عرض کی: نہیں حضور! وہ مختلف طبقات میں بنے ہوئے ہیں ، کچھ اوپر اور کچھ نیچے ہیں اور ایک دروازے کا درمیانی فاصلہ ستر سال کا ہے، ہر دروازہ پہلے دروازے سے ستر گنا زیادہ گرم ہے۔ آپ نے ان دروازوں میں رہنے والوں کے متعلق پوچھا تو جبریل نے جواب دیا: سب سے نچلے کا نام ’’ ہَاوِیَہ ‘‘ ہے اور اس میں منافقین ہیں۔ 
	 جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:     
	اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (3)
	 دوسرے طبق کا نام ’’ جَحِیْم‘‘ہے اور اس میں مشرک ہیں ۔ تیسرے کا نام ’’ سَقَر ‘‘ ہے اور اس میں صابی ہیں چوتھے کا نام ’’ لَظٰی‘‘ ہے اور اس میں ابلیس اور اس کے پیروکار مجوسی ہیں ، پانچویں کا نام ’’ حُطَمَہ ‘‘ ہے اور اس میں یہود ہیں ، چھٹے کا نام ’’ سَعِیر‘‘ہے اور اس میں نصاریٰ ہیں ، پھر جبریل خاموش ہوگئے۔ آپ نے   پوچھا: اے جبریل! کیا تم مجھے ساتویں طبقے میں رہنے والوں کے متعلق نہیں بتاؤ گے؟ جبریل نے عرض کی حضور مت پوچھئے، آپ نے  
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:  ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے ۔(پ۲۹،الحآقَّۃ:۳۲)
2… شعب الایمان ، التاسع والاربعون من شعب الایمان ، باب فی طاعۃ۔۔۔الخ، ۶/۳۳ ، الحدیث ۷۴۲۰ بالتقدیم و التاخیر 
3…ترجمۂکنزالایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں۔ (پ۵،النساء:۱۴۵)