اللہ تَعَالٰی نے اس اِرشاد میں اِبتداء ً منافقوں کا ذِکر کیا ہے اس لئے کہ کفار سے بھی زیادہ بدبخت ہوتے ہیں اور اللہ نے ان سب کا ٹھکانہ جہنم قرار دیا ہے ۔ فرمانِ الٰہی ہے:بے شک منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور آپ کسی کو ان کا مدد گار نہیں پائیں گے۔(1)
لفظ ِ منافق لغت میں ’’ نَافِقَاءُ الیَرْبُوْع ‘‘سے مُشْتَق ہے، کہتے ہیں کہ جنگلی چوہے (یربوع) کے بل کے دو سوراخ ہوتے ہیں ۔ ایک داخل ہونے کیلئے اور دوسرا سوراخ نکلنے کیلئے ہوتا ہے ایک سوراخ سے ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے سے بھاگ نکلتا ہے، منافق کو بھی اس لئے منافق کہتے ہیں کہ وہ بظاہر تو مسلمانوں کی شکل میں ہوتا ہے مگر کفر کی طرف نکل جاتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے: منافق کی مثال ایسی نووارد بکری کی طرح ہے جو دوریوڑوں کے درمیان ہو، کبھی وہ اس ریوڑ کی طرف بھاگتی ہے اور کبھی اس ریوڑ کی طرف دوڑتی ہے۔(2)
یعنی کسی ایک ریوڑ میں نہیں ٹھہرتی اسی طرح منافق بھی نہ تو کلیۃً مسلمانوں میں شامل ہوتا ہے اور نہ ہی کافروں میں۔
جہنم کے سات دروازے
اللہ تَعَالٰی نے جہنم کو پیدا کیا اور اس کے سات دروازے بنائے جیساکہ فرمانِ الٰہی ہے: لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ(3)
اس کے دروازے لوہے کے ہوں گے جن پر لعنت کی تَہیں جمی ہیں ، اس کا ظاہر تانبے کا اور باطن سیسے کا ہے، اس کی گہرائی میں عذاب اور اسکی اونچائی میں اللہ کی ناراضگی ہے، اس کی زمین تانبے، شیشے، لوہے اور سیسے کی ہے، اس میں رہنے والوں کے لئے اوپر، نیچے، دائیں ، بائیں آگ ہی آگ ہے، اس کے طبقات اوپر سے نیچے کی طرف ہیں اور سب سے نچلا طبقہ منافقوں کے لئے ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے جبریل سے جہنم کی تعریف اور گرمی کے بارے میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔ (پ۵،النساء:۱۴۵)
2…مسلم، کتاب صفات المنافقین واحکامھم، ص ۱۴۹۸، الحدیث۱۷- (۲۷۸۴)
3…ترجمۂکنزالایمان: اس کے سات دروازے ہیں۔(پ۱۴،الحجر:۴۴)