باب:7
فِسق، نِفاق اور خدا فراموشی
ایک عورت حضرتِ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس حاضر ہوئی اور کہنے لگی: میری جوان بیٹی فوت ہوگئی ہے، میں چاہتی ہوں کہ اسے خواب میں دیکھ لوں ، کوئی ایسی دُعا بتلائیے جس سے میری مُراد پوری ہوجائے، آپ نے اسے ایک دعا سکھلائی، اس عورت نے رات میں وہ دعا پڑھی اور اپنی بیٹی کو خواب میں دیکھا تو اس کا حال یہ تھا کہ اس نے جہنم کے تارکول کا لباس پہن رکھا تھا، اس کے ہاتھوں میں زنجیریں اور پاؤں میں بیڑیاں تھیں ۔ عورت نے دوسرے دن یہ خواب آپ کو سنایا، آپ بہت مغموم ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد حضرتِ حسن رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اس لڑکی کو جنت میں دیکھا، اس کے سر پر تاج تھا، وہ آپ سے کہنے لگی: آپ مجھے پہچانتے ہیں ، میں اسی خاتون کی بیٹی ہوں جو آپ کے پاس آئی تھی اور میری تباہ حالت آپ کو بتلائی تھی۔ آپ نے اس سے پوچھا :تیری حالت میں یہ اِنقلاب کس طرح آیا؟ لڑکی نے کہا: قبرستان کے قریب سے ایک صالح شخص گزرا اور اس نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر دُرود بھیجا، اس کے دُرود پڑھنے کی برکت سے اللہ تَعَالٰی نے ہم پانچ سو قبر والوں سے عذاب اُٹھالیا۔
نکتہ: غور کا مقام ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ایک شخص کے دُرود بھیجنے کی برکت سے اتنے بہت سے لوگ بخشے گئے، کیا وہ شخص جو پچاس سال سے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر دُرود بھیج رہا ہو، قیامت میں اس کی مغفرت نہیں ہوگی! فرمانِ الٰہی ہے: وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّہَ (1)گناہ کرنے میں تم منافقوں کی طرح نہ بن جاؤجنہوں نے اللہ کے اَحکامات کو چھوڑ دیا اور اس کے خلاف چلنے لگے۔شہواتِ دنیا سے لطف اندوز ہونے لگے اور فریب کاری کی طرف مائل ہوگئے۔
مومن اور منافق کا فرق
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مومن اور منافق کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ مومن کی ہمت نماز اور روزے کی طرف رہتی ہے اور منافق کی ہمت جانوروں کی طرح کھانے پینے کی طرف رہتی ہے اور وہ نماز روزہ کی طرف
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اور ان جیسے نہ ہوجو اللہ کو بھول بیٹھے ۔(پ۲۸،الحشر:۱۹)