بزاز نے بسند صحیح روایت کی ہے کہ سود کے کچھ اوپر ستّر اَقسام ہیں ، اسی طرح شرک بھی ہے۔(1)
بیہقی کی روایت ہے کہ سود کے ستر دروازے ہیں اور سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے بدکاری کرے۔(2)
طبرانی کبیر میں حضرتِ عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کی ہے کہ رسول ا للّٰہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: وہ درہم جو انسان سود میں لیتا ہے، اللہ کے نزدیک حالت اسلام میں تینتیس 33 مرتبہ زنا کرنے سے بھی بدتر ہے۔ (3)
اس روایت کی سندمیں انقطاع ہے اور ابن ابی الدنیا اور بغوی نے اسے موقوفًا حضرتِ عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے اور یہ حدیث موقوف بھی حدیث مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ ایک سودی درہم کا مذکورہ بالا تعداد میں زنا کرنے سے بھی اللہ تَعَالٰی کے ہاں بہت بڑا گناہ ہونا، وحی کے بغیر معلوم ہونا ناممکن ہے، گویا کہ انہوں نے یہ حدیث حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے سنی ہوگی۔
حضرتِ عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا کہنا ہے،سود کے بہتّر72 گناہ ہیں ، اس کا سب سے ادنیٰ گناہ حالت اِسلام میں کسی کااپنی ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے اور ایک سودی درہم کچھ اوپر تیس مرتبہ زنا کرنے سے بدتر ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن ہر نیک اور بَد کو کھڑے ہونے کی اجازت دے گا مگر سود خور کھڑا نہیں ہوگا لیکن جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے آسیب سے باؤلا کردیا ہو۔(4)
احمدنے بسندِ جید حضرتِ کعب احبار رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کی ہے کہ میں تینتیس 33 مرتبہ زنا کرنے کو ایک درہم سود کھانے سے اچھا سمجھتا ہوں ، جب میں سود کماؤں تو اللہ ہی جانتا ہے کہ میں کیا کھارہا ہوں ۔ (5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند البزار، ۵/۳۱۸، الحدیث ۱۹۳۵
2…شعب الایمان، الباب الثامن والثلاثون۔۔۔الخ ، ۴/۳۹۴، الحدیث ۵۵۲۰
3…کنزالعمال، کتاب البیوع ، الباب الرابع فی الربا ، ۲/۴۵، الحدیث ۹۷۷۷ و المعجم الکبیر للطبرانی، ۱۱/۱۱۴، الحدیث ۱۱۲۱۶
4…شرح السنۃ ، کتاب البیوع ، باب وعید آکل الربا ، ۴/۲۳۹، الحدیث ۲۰۴۷
5…مسند احمد، مسند الانصار، حدیث عبداللہ بن حنظلۃ۔۔۔الخ ، ۸/۲۲۳، الحدیث ۲۲۰۱۷