نصیحت پر غلام کو آزاد کردیا:
’’رَونق المجالس ‘‘میں ہے کہ ایک شخص کی عبائیں گم ہوگئیں اور یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان کو کون لے گیا، جب اس شخص نے نماز شروع کی تو اسے یاد آگیا جونہی نماز سے فارغ ہوا غلام کو آوازدی کہ جاؤ فلاں آدمی سے عبائیں لے آؤ۔ غلام نے کہا آپ کو یہ کب یاد آیا؟ اس نے کہا مجھے نماز میں یاد آیا، غلام نے فوراً جواب دیا تب تو آپ نے نماز عبا کے لئے پڑھی، اللہ کے لئے نہیں ۔ یہ بات سنتے ہی اس شخص نے اس غلام کو آزاد کردیا۔
چنانچہ ہرذی فہم کے لئے ضروری ہے کہ وہ دنیا کو ترک کردے اور اللہ کی عبادت کرتا رہے، مستقبل کے بارے میں غوروفکر کرتا رہے اور اپنی آخرت سنوارتا رہے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیۡ حَرْثِہٖۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا ۙوَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾ (1)
جو شخص آخرت کی کھیتی کی فکر کرتا ہے تو ہم اسکی کھیتی زیادہ کرتے ہیں اور جو شخص (2) دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ۔
یعنی اس کے دل سے آخرت کی محبت نکال دی جاتی ہے، اسی لئے حضرتِ ابوبکر صدیق رَضِی َاللہُ عَنْہنے حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ذات پر چالیس ہزار دینار علانیہ اور چالیس ہزار دینار پوشیدہ خرچ کردیئے تھے یہاں تک کہ ان کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہا۔
حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور آپ کے اہلِ بیت دنیا اور اس کی خواہش سے مکمل پرہیز کرتے تھے اسی لئے حضرتِ فاطمہ رَضِی َاللہُ عَنْہا کا جہیز صرف مینڈھے کی ایک رنگی ہوئی کھال اور ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جودنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ
دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں۔ (پ ۲۵،الشورٰی:۲۰)
2…آخرت سے غافل ہو کر صرف دنیا ہی دنیا۔