Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
468 - 676
حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا اوراپنے علم پر کتنا عمل کیا۔(1)
	بیہقی کی حدیث ہے کہ دنیا سر سبز اور شیریں ہے، جس شخص نے اس میں حلال طریقہ سے مال کمایا اور اسے صحیح طور پر خرچ کیا، اللہ تَعَالٰی اسے اس کا ثواب دے گا اور اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور جس نے اس میں ناجائز طریقوں سے مال کمایا اورناجائز طریقوں سے اسے خرچ کیا، اللہ تَعَالٰی اسے جہنم میں بھیجے گا اور ان بہت سے لوگوں کے لئے جو مال کی محبت میں اللہ اور اس کے رسول کو بھول جاتے ہیں ، قیامت کے دن جہنم ہوگا۔(2)
	 اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے:
کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیۡرًا ﴿۹۷﴾(3)	جب وہ بجھنے لگے گی ہم اس کی سوزش اور زیادہ کردیں گے۔
	ابن حبان نے اپنی صحیح میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو گوشت اور خون حرام کے مال سے پیدا ہوا اس پر جنت حرام ہے اور جہنم اس کی زیادہ مستحق ہے۔(4)
	ترمذی کی روایت ہے کہ جو گوشت مالِ حرام سے پرورِش پاتا ہے، آگ اس کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جو گوشت ناجائز طریقوں سے حاصل کردہ مال سے پرورش پائے، اس کے لئے آگ زیادہ مناسب ہے۔(5)
	 ایک اور روایت میں بسند حسن نقل کیا گیا ہے کہ وہ جسم جنت میں نہیں جائے گا جس نے حرام مال سے غذا حاصل کی ہو۔(6)
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ، باب فی القیامۃ، ۴/۱۸۸، الحدیث ۲۴۲۵
2…شعب الایمان، الباب الثامن والثلاثون۔۔۔الخ ، ۴/۳۹۶، الحدیث ۵۵۲۷
3…ترجمۂ کنزالایمان:جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکادیں گے۔ (پ۱۵، بنی اسرائیل:۹۷)
4…صحیح ابن حبان،کتاب الحظر والاباحۃ، ذکر الاخبار بایجاب النار۔۔۔الخ، ۷/۴۳۶، الحدیث ۵۵۴۱
5…ترمذی ،کتاب السفر، باب ما ذکر فی فضل الصلاۃ ، ۲/۱۱۸، الحدیث ۶۱۴
6…المعجم الاوسط ، ۴/۲۷۱، الحدیث ۵۹۶۱