Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
467 - 676
 اسے صدقہ کردیا تو اسے کوئی اَجر نہیں ملے گا اور اس کا گناہ اُسی پر رہے گا۔(1)
	طبرانی کی حدیث ہے کہ جس نے مالِ حرام حاصل کر کے اس سے کسی کو آزاد کیا اور صلہ رحمی کی، یہ اس کے لئے ثواب کی بجائے عذاب اور گناہ کا موجب ہوگا۔(2)
	احمد وغیرہ نے یہ حدیث نقل کی ہے جس کی سند کو بعض محدثین نے حسن کہا ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے جیسے تمہارے درمیان رزق تقسیم کردیا ہے ایسے ہی عادات تقسیم کردی ہیں ۔ 
	اللہ تَعَالٰی ہر انسان کو، خواہ وہ دنیا کو اچھا سمجھتا ہو یا بُرا، دنیا دیتا ہے اور دین اسے دیتا ہے جو دین کو پسندکرتا ہے اور اللہ تَعَالٰی جسے دین دیتا ہے اسے محبوب رکھتا ہے، بخدا! بندہ اس وقت تک کامل مسلمان نہیں بنتا جب تک کہ اس کی زبان اوردل اسلام نہ لائے اور اس کی زبان اور دل سے لوگ سلامت نہ رہیں اور اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں بنتا جب تک اس کے ہمسائے اس کے کینے اور ظلم سے محفوظ نہ ہوں اور بندہ حرام کی کمائی سے جو کچھ حاصل کرتا ہے اس میں سے اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا اورنہ ہی راہِ خدا میں اس کو دینے سے اس کے مال میں برکت ہوتی ہے اور جو مال وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ اس کے لئے جہنم کا سامان ہوتا ہے، بے شک اللہ تَعَالٰی برائی سے برائیوں کو نہیں مٹاتا بلکہ نیکیوں سے برائیوں کو مٹاتا ہے، بے شک خبیث چیز سے خبیث چیز نہیں مٹتی۔(3)
	ترمذی نے حسن، صحیح اور غریب قرار دے کر یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا جن کی وجہ سے اکثر لوگ جہنم میں جائیں گے، آپ نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ، اور ان چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا جن کے سبب اکثر لوگ جنت میں جائیں گے، آپ نے فرمایا: خوفِ خدا اورحسن خلق۔(4)
	ترمذی نے بسند صحیح یہ حدیث روایت کی ہے کہ بندہ اس وقت تک قیامت کے دن نہیں ہلے گا جب تک کہ اس سے چار چیزوں کا سوال نہیں ہوجائے گا، اس نے اپنی عمر کیسے پوری کی، اپنی جوانی کن کاموں میں صرف کی، مال کیسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ التطوع، ۴/۱۵۲، الجزء الخامس، الحدیث ۳۳۵۶
2…الترغیب والترھیب ، کتاب البیوع وغیرھا، الترغیب فی طلب الحلال۔۔۔الخ ، ۲/۳۵۰، الحدیث ۲۶۸۳و المعجم الکبیر للطبرانی ، ۱۰/۱۰۷، الحدیث ۱۰۱۱۱
3…مسند احمد ، مسند عبداللہ بن مسعود،۲/۳۳،الحدیث ۳۶۷۲
4…ترمذی،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی حسن الخلق، ۳/۴۰۴، الحدیث ۲۰۱۱ بالتقدیم والتاخیر