Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
466 - 676
 آگ اس کے بہت قریب ہوتی ہے۔(1)
	مسند بزاز میں بسند منکر روایت ہے کہ اس کا دین نہیں جس میں امانت نہیں اور نہ اس شخص کی نماز اور زکوٰۃ ہے جس نے حرام کا مال پایا اور اس میں سے قمیص پہن لی، اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ اسے اتار نہیں دیتا کیونکہ شانِ الٰہی اس چیز سے بلند و بالا ہے کہ وہ ایسے شخص کی نماز قبول کرے یا کوئی اور عمل قبول کرے کہ جس کے جسم پر حرام کا لباس ہو۔(2)
	احمد نے حضرتِ ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے روایت کی ہے: انہوں نے فرمایا: جس شخص نے دس درہم کا کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا، جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کی نماز قبول نہیں فرماتا، پھر انہوں نے اپنے دونوں کانوں میں دو انگلیاں داخل کر کے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو تو یہ دونوں بہرے ہوجائیں ۔ (3)
	بیہقی کی روایت ہے کہ جس نے چوری کا مال خریدا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ چوری کا مال ہے تو وہ بھی اس کی رسوائی اور گناہ میں شریک ہوگا۔(4)
	حافظ منذری نے قابلِ حسن اسناد یا موقوف سند کے ساتھ اور احمد نے بہ سندِ جیدیہ حدیث نقل کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور لکڑیاں اکٹھی کر کے پیٹھ پر لاد کرلے آئے اور انہیں بیچ کر کھائے وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے منہ میں حرام کا لقمہ ڈالے۔(5)
	ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جس نے حرام کا مال جمع کیا، پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…المعجم الاوسط ، ۵/۳۴ ، الحدیث ۶۴۹۵
2…مسند البزار، ۳/۶۱،الحدیث ۸۱۹
3…مسند احمد، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب، ۲/۴۱۶، الحدیث ۵۷۳۶
4…شعب الایمان ، الباب الثامن  والثلاثون۔۔۔الخ ، ۴/۳۸۹، الحدیث۵۵۰۰
5…مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ ، ۳/۶۸، الحدیث ۷۴۹۳