اور فرمانِ الٰہی: ’’ مگر یہ کہ تجارت ہو ‘‘(1)
اس میں استثنائے منقطع ہے یعنی تجارت کے ذریعہ تم مال لے سکتے ہو کیونکہ تجارت اس جنس میں سے نہیں ہے جس کی ممانعت کردی گئی ہے، خواہ اس کو کسی معنی پر محمول کیا جائے اور اس کی تاویل سبب سے کرنا تاکہ استثناء متصل بن جائے، درست نہیں ہے اگرچہ تجارت تبادلہ کے عقد کے ساتھ خاص ہے مگر دوسرے دلائل کی روشنی میں اس کا اطلاق قرض و ہبہ پر بھی ہوتا ہے اور فرمانِ الٰہی: عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُم (2) سے مراد یہ ہے کہ خوش دلی اور جائز طریق پر ہو، کھانے کا خصوصی ذکر کرنا قید لگانے کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف اس لئے ہے کہ عام طور پر کھانا ہی مقصود ہوتا ہے، یہ بالکل اس طرح ہے جیسے :
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ (3)
اس سلسلہ کے دلائل کثیر اور احادیث مقدسہ میں اس کے متعلق وارد شدہ تنبیہات بیشمار ہیں جن میں سے ہم بعض کا ذکر کئے دیتے ہیں ۔
مسلم وغیرہ میں حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی پاک ہے، وہ پاک چیزوں کو قبول فرماتا ہے اور اس نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو دیا ہے، چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صٰلِحًا ؕ (4) اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو۔
اور دوسری آیت میں فرمایا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ (5) اے مومنو ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:مگر یہ کہ کوئی سودا(ہے) ۔(پ۵، النساء:۲۹)
2…ترجمۂ کنزالایمان:(مگر یہ کہ کوئی سودا )تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو۔(پ۵، النساء: ۲۹)
3…ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں۔(پ۴، النساء :۱۰)
4…ترجمۂ کنزالایمان:اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔ (پ۱۸، المؤمنون :۵۱)
5…ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں۔ (پ۲، البقرۃ: ۱۷۲)