Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
463 - 676
باب68
مذمت اکلِ حرام 
	فرمانِ الٰہی ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ (1)	اور تم ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔
	اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے لہٰذا اسے سود، جوا، غصب، چوری، خیانت، جھوٹی گواہی اورجھوٹی قسم کھا کر مال ہتھیانے کے معنوں میں لیا گیا ہے، حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَاکا قول ہے: اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انسان ناحق حاصل کرلیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے ایک دوسرے کے ہاں کچھ کھانا پینا بھی ممنوع سمجھ لیا، تب سورۂ نور کی یہ آیت نازل ہوئی:
’’ تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں سے اوراپنے والدین کے گھروں سے کھاؤ۔‘‘(2)
	 اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد غلط بیع ہے اورحضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے اس قول سے کہ ’’یہ آیت محکمات میں سے ہے جس کا حکم قیامت تک باقی رہے گا۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ ناحق طریقہ سے کھانا ہر اس چیز کو شامل ہے جو غلط طریقے سے حاصل کی جائے، چاہے وہ ظلم کر کے لی جائے جیسے غصب، خیانت اور چوری وغیرہ، یا لہو ولعب سے حاصل کی جائے جیسے جوا یا کھیل کود کے ذریعہ حاصل کریں ، یا مکر اور دھوکہ سے حاصل کی جائے جیسے ناجائز طور پر خرید و فروخت کی جائے اور میرے اس قول کی تائید میں بعض علماء کا قول بھی ہے کہ یہ آیت انسان کے اپنے مال کو بھی ناجائز طریقوں سے خرچ کرنے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے اور دوسروں کے مال کو مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی صورت میں حاصل کرنے کی بھی ممانعت کرتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔ (پ۵، النساء : ۲۹)
2…ترجمۂ کنزالایمان:اور نہ تم میں کسی پر (مضائقہ) کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر یا اپنے باپ کے گھر۔(پ۱۸، النور: ۶۱)