Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
462 - 676
سے نکل کر کسی شہر کی ویران مسجد میں ٹھہر گئیں ، ان کی ماں نے انہیں وہیں بٹھایا اورخود کھانا لینے کے لئے باہر نکل گئی۔ چنانچہ وہ شہر کے ایک امیر شخص کے پاس پہنچی جو مسلمان تھا اور اسے اپنی ساری سرگذشت سنائی مگر وہ نہ مانا اور کہنے لگا: تم ایسے گواہ لاؤ جو تمہارے بیان کی تصدیق کریں تب میں تمہاری امداد کروں گا اور وہ عورت یہ کہہ کر وہاں سے چل دی کہ میں غریب الوطن گواہ کہاں سے لاؤں ؟ پھر وہ ایک مجوسی کے پاس آئی اور اسے اپنی کہانی سنائی، چنانچہ اس مجوسی نے اس کی باتوں کو صحیح سمجھ کر اپنے یہاں کی ایک عورت کو بھیجا کہ اسے اور اس کی بیٹیوں کومیرے گھر پہنچا دو، اس شخص نے ان کی عزت اور احترام میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔
	جب آدھی رات گزر گئی تو اس مسلمان امیر نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہوگئی ہے اور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اپنے سرمبارک پر لواء الحمد باندھا ہے اور ایک عظیم الشان محل کے قریب کھڑے ہیں اس امیر نے آگے بڑھ کر پوچھا: یارسول اللہ! یہ محل کس کا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک مسلمان مرد کے لئے ہے، امیر نے کہا: میں خدا کو ایک ماننے والا مسلمان ہوں ،حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم اس بات کے گواہ لاؤکہ واقعی تم مسلمان ہو۔ وہ بہت پریشان ہوا تو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اسے اس سیدہ عورت کی بات یاددلائی جس سے اس نے گواہ مانگے تھے۔ امیر یہ سنتے ہی اچانک جاگ کھڑا ہوا اور اسے انتہائی غم و اندوہ نے آگھیرا، وہ اس سیدہ عورت اور ان کی بچیوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور تلاش کرتے کرتے اس مجوسی کے گھر جاپہنچا اور اس سے کہا کہ یہ سیدزادی اور اس کی بچیوں کو مجھے دے دو مگر مجوسی نے انکار کردیا اور بولا: میں نے ان کے سبب عظیم برکتیں پائی ہیں ، امیر نے کہا: مجھ سے ہزار دینار لے لو اور انہیں میرے سپرد کردو لیکن اس نے پھر بھی انکار کردیا ۔ تب اس امیر کے دل میں اسے تنگ کرنیکا خیال آیا اور مجوسی اس کی بری نیت دیکھ کر بولا: جنہیں تم لینے آئے ہو، میں ان کا تم سے زیادہ حقدار ہوں اور تو نے خواب میں جو محل دیکھا ہے وہ میرے لئے بنایا گیا ہے، کیاتجھے اپنے مسلمان ہونے کا فخر ہے، بخدا! میں اور میرے گھروالے اس وقت تک نہیں سوئے جب تک کہ ہم سب اس سیدہ کے ہاتھ پر اسلام نہیں لائے اورمیں نے بھی تیری طرح خواب میں رسول ا للّٰہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی زیارت کی ہے اور آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا سیدزادی اوراس کی بیٹیاں تیرے پاس ہیں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ! یارسول اللہ! آپ نے فرمایا: یہ محل تیرے اور تیرے گھروالوں کے لئے ہے۔ مسلمان امیر یہ بات سنتے ہی واپس لوٹ گیا اور اللہ تَعَالٰی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس حرمان ویاس کے ساتھ واپس ہوا ہوگا۔