اللہتعالیٰ اسے جنت میں بھیجے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کرے جو لائقِ بخشش نہ ہو۔(1)
ترمذی کی بسند حسن روایت ہے کہ جس کسی نے یتیم کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لائق ہوگیا تو اللہ تَعَالٰی اس کے لئے جنت واجب کردیتا ہے۔(2)
ابن ماجہ کی حدیث ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مسلمانوں کا سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے اچھا سلوک کیا جاتا ہے اور ایک مسلمان کا براگھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کو دکھ اور تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔(3)
ابویعلی نے بسند حسن روایت کی ہے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں گا جس کیلئے جنت کا دروازہ کھلے گا مگر میں ایک عورت کو اپنے آگے دیکھ کر پوچھوں گا کہ تم کون ہو اور مجھ سے پہلے کیوں جارہی ہو؟ وہ کہے گی: میں ایسی عورت ہوں جو اپنے یتیم بچوں کی پرورش کے لئے گھر بیٹھی رہی۔(4)
طبرانی کی روایت ہے جس میں ایک کے سوا سب راوی ثقہ ہیں اور اس کے باوجود یہ روایت متروک نہیں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اس شخص پر عذاب نہیں کرے گا جس نے یتیم پر رحم کیاا ور اس سے نرم گفتگو کی اور اس کی یتیمی اور کمزوری پر رحم کرتے ہوئے اور اللہ تَعَالٰی کے دیئے ہوئے مال کی وجہ سے اسے اپنی پناہ میں لے لیا اور اس پر زیادتی و ظلم نہیں کیا۔(5)
امام احمد رَضِیَ اللہُ عَنْہ وغیرہ کی حدیث ہے کہ جس شخص نے اللہ کی خوشنودی کے لئے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اسے ہر اس بال کے بدلہ میں جو اس کے ہاتھ کے نیچے آیا، نیکیاں ملیں گی اورجس شخص نے کسی یتیم سے نیکی کی یا اس کی پرورش کی تو میں اور وہ جنت میں دوانگلیوں کی طرح ہوں گے۔(6)
محدثین کی ایک جماعت نے یہ حدیث روایت کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا کہ تیری آنکھوں کی بینائی چلے جانے ، کمر جھک جانے اور یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ بھائیوں کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی رحمۃ الیتیم۔۔۔الخ ، ۳/۳۶۸، الحدیث۱۹۲۴
2…مسند احمد ، مسند الکوفیین، حدیث مالک بن الحارث رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ۷/۲۷، الحدیث ۱۹۰۴۷
3…ابن ماجہ،کتاب الادب ، باب حق الیتیم ، ۴/۱۹۳،الحدیث ۳۶۷۹
4…مسند ابی یعلی، ۵/۵۱۰، الحدیث ۶۶۲۱
5…المعجم الاوسط، ۶/۲۹۶، الحدیث ۸۸۲۸
6…مسند احمد ، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباھلی، ۸/۲۷۲، الحدیث ۲۲۲۱۵