Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
46 - 676
اس فرمانِ نبوی (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی روشنی میں ہر ذی ہوش اور دانشمند کے لئے ضروری ہے کہ وہ خوف اور بھرپور خلوص کے ساتھ اللہ تَعَالٰی کی عبادت کرتا رہے اور راضی بہ قضا رہے، اس کے نازل کردہ مصائب پر صبر کرے، اس کی نعمتوں کا شکر کرتے ہوئے کم و بیش پر قانع ہوجائے، اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: جو میری قضا پر راضی، مصائب پر صابر نہیں اور نعمتوں کا شکر نہیں ادا کرتا اور کم و بیش پر قناعت نہیں کرتا، وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کرلے۔
حضرتِ حسن بصری کا ایک دِلنشیں جواب:
	ایک شخص نے حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہسے کہا کہ تعجب ہے کہ میں عبادت میں لطف نہیں پاتا۔ آپ نے جواب دیا: شاید تونے کسی ایسے شخص کو دیکھ لیا ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتا۔حق بندگی یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جائے۔
	کسی شخص نے حضرت ابی یزید رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہسے کہا کہ میں عبادت میں کیف و سرور نہیں پاتا؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اس لئے ہے کہ تو عبادت کی بندگی کرتا ہے، اللہ کی بندگی نہیں کرتا، تو اللہ کی بندگی کر پھر دیکھ عبادت میں کیسا مزہ آتا ہے۔
ا للّٰہ کی عبادت یا مخلوق کی عبادت:
	  ایک شخص نے نماز شروع کی، جب  ’’   اِیَّاکَ نَعْبُدُ  ‘‘  (1)   پڑھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ میں خالصۃً اللہ ہی کی عبادت کررہا ہوں ۔ غیب سے آواز آئی تو نے جھوٹ بولا ہے تو تو مخلوق کی عبادت کرتا ہے، تب اس نے مخلوق سے قطعِ تعلق کرلیا اور نماز شروع کی، جب پھر اسی آیت تک پہنچا تو وہی دل میں گزرا، پھر ندا آئی تو اپنے مال کی عبادت کرتا ہے اس نے سارا مال راہِ خدا میں خرچ کردیا اور نماز کی نیت کی، جب اسی آیت پر پہنچا تو پھر خیال آیا کہ میں حقیقۃً اللہ کی عبادت کرنے والا ہوں، ندا آئی تم جھوٹے ہو، تم اپنے کپڑوں کی عبادت کرتے ہو اس وقت اس بندئہ خدا نے بدن کے کپڑوں کے علاوہ سب کپڑے راہِ خدا میں لٹادئیے، اب جو نماز میں اس آیت پر پہنچا تو آواز آئی کہ اب تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔  (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:ہم تجھی کو پوجیں۔(پ۱،الفاتحۃ:۴)
2… علائق دنیا کے ساتھ نماز خالصۃً للّٰہ ناممکن ہے۔