باب67
یتیم سے بھلائی اور اس پر ظلم سے احتراز
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہونگے اور پھر آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی اُنگلی کو تھوڑا ساکھول کر انکی طرف اشارہ فرمایا۔(1)
مسلم شریف کی حدیث ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا، چاہے وہ یتیم اس کا عزیز ہو یا کوئی غیر، جنت میں ایسے ہوں گے جیسے یہ دوانگلیاں ، اور مالک نے اَنگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔(2)
بزاز کی حدیث ہے کہ جس نے کسی یتیم کی پرورش کی، چاہے وہ یتیم اس کا عزیز ہی کیوں نہ ہو، پس وہ اور میں جنت میں ایسے ہوں گے جیسے یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں اور جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی وہ جنت میں ہوگا اور اسے راہِ خدا میں روزہ داروں اور نمازی مجاہد کے برابر ثواب ملے گا۔(3)
ابن ماجہ شریف کی حدیث ہے کہ جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی ذمہ داری اٹھالی وہ اس شخص کی طرح ثواب پائے گا، جو رات کو عبادت کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے کے لئے تلوار لیکر نکل کھڑا ہوتا ہے، میں اور وہ جنت میں ایسے دوبھائی ہوں گے جیسے یہ دوانگلیاں ملی ہوئی ہیں ، پھر آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا۔(4)
ترمذی نے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جس شخص نے کسی مسلمان یتیم کی کھانے پینے کے معاملے میں کفالت کی تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الطلاق ، باب اللعان ، ۳/۴۹۷، الحدیث ۵۳۰۴
2…مسلم ،کتاب الزھد والرقائق ، باب الاحسان الی الارملۃ۔۔۔الخ ، ص۱۵۹۲، الحدیث ۴۲۔ (۲۹۸۳)
3…مسند البزار،۱۷/۱۱۶، الحدیث ۹۶۸۹ و الترغیب والترہیب ،کتاب النکاح، الترغیب فی النفقۃ۔۔۔الخ ، فصل (۸) ، ۳/۳۵ ، الحدیث۳۰۵۷
4…ابن ماجہ،کتاب الادب، باب حق الیتیم ، ۴/۱۹۴، الحدیث ۳۶۸۰