حکم دیتا ہوں کیونکہ زمین و آسمان اور ان میں موجود سب اشیاء ایک پلڑے میں اور یہ کلمہ دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تب بھی یہ کلمہ بھاری رہے گا اور اگر آسمان و زمین ایک دائرے میں رکھ دیئے جائیں اور یہ کلمہ ان کے اوپر رکھ دیا جائے تو وہ انہیں دو ٹکڑے کردیگا اور تمہیں سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖپڑھنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ یہ کلمہ ہر چیز کی نماز ہے(1) اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔(2)
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے: اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس کو اللہ تَعَالٰی نے کتاب کا علم دیا اور وہ متکبر ہوکر نہیں مرا۔
حضرتِ عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک مرتبہ لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے بازار سے گزرے، آپ سے کسی نے کہا کہ آپ کو لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے حالانکہ آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے، آپ نے فرمایا: میں نے چاہا لکڑیوں کا گٹھا سر پراٹھا کر بازار سے گزروں تاکہ میرے دل میں سے تکبر نکل جائے۔
تفسیر قرطبی میں فرمانِ الٰہی:
وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ (3) اور وہ عورتیں اپنے پیر زمین پر نہ ماریں ۔
کے یہ معنی ہیں کہ وہ اظہارِ زینت اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے اگر ایسا کریں تو یہ ان کے لئے حرام ہے اوراسی طرح جو شخص تکبر کے طور پر اپنا جوتا زمین پر زور زور سے مار کر چلتا ہے تو یہ بھی حرام ہے کیونکہ اس میں سراسر تکبر ہی تکبر ہے۔
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یعنی عبادت ہے ۔ علمیۃ
2…مسند احمد، مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص، ۲/۶۹۵، الحدیث ۷۱۲۳
3…ترجمۂ کنزالایمان:اور (عورتیں) زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں۔ (پ۱۸، النور: ۳۱)