کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے تمہیں اپنے جوتے نہیں دیتا کہ میں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ یمن کے بادشاہوں کو یہ خبر ملے کہ تم نے میرے جوتے پہنے ہیں البتہ تمہاری عزت افزائی کے لئے اتنا کرسکتا ہوں کہ تم میری اونٹنی کے سایہ میں چلتے رہو۔
کہتے ہیں کہ اس نے امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا زمانہ پایا اور وہ آپ کے دورِ حکومت میں ایک دفعہ آپ کے ہاں آیا تو آپ نے اسے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور گفتگو کی۔
مسرور بن ہند نے ایک آدمی سے کہا کہ تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ بولا کہ نہیں ! مسرور نے کہا میں مسرور بن ہند ہوں ، اس آدمی نے کہا: میں تجھے نہیں پہچانتا، مسرور چلّا کر بولا: خدا اسے غارت کرے جو چاند کو نہیں پہچانتا۔
ایسے ہی متکبروں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے: ؎
قولا لاحمق یلوی التیہ اخدعہ لو کنت تعلم ما فی التیہ لم تتہ
التیہ مفسدۃ للدین منقصۃ للعقل مہلکۃ للعرض فانتبہ
{1}اس بے وقوف سے کہہ دو کہ جو تکبر سے اپنے سرین مٹکا کر چل رہا ہے اگر تجھے معلوم ہوجائے کہ ان میں کیا ہے تو تو حیران نہ ہو۔
{2}تکبر دین کا فساد، عقل کی کمی کا باعث اور عزت کی ہلاکت ہے، اس سے خبردار رہ۔
اورکہا گیا ہے کہ ہر کمینہ آدمی تکبر کرتا ہے اور ہر بلند مرتبہ آدمی انکساری کو اپناتا ہے۔
فرمانِ نبوی ہے کہ تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں ، دائمی بخل، خواہشاتِ نفسانی کی پیروی اور انسان کا خود کو بہت بڑا سمجھنا۔(1)
حضرتِ عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا:
جب حضرتِ نوح عَلَیْہِ السَّلَام کے وصال کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلاکر فرمایا: میں تمہیں دو چیزوں کاحکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے روکتا ہوں میں تمہیں شرک اور تکبر سے روکتا ہوں اور لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہپڑھنے کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ ،۱/۴۷۱، الحدیث ۷۴۵