Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
456 - 676
	ایک دانا کا قول ہے کہ جب میں کسی متکبر کو دیکھتا ہوں تو اس کے تکبر کا جواب تکبر سے دیتا ہوں ۔ 
	کہتے ہیں کہ ابن عوانہ انتہائی متکبر آدمی تھا، اس نے ایک مرتبہ اپنے غلام سے کہا: مجھے پانی پلاؤ! غلام بولا: ہاں ! ابن عوانہ یہ سن کر چلّایا کہ ’’ہاں ‘‘ تو وہ کہے جسے ’’نہ‘‘ کہنے کا اختیار ہو، یہ کہہ کر اسے طمانچے مارے اور اس نے مزارع کو بلا کر اس سے بات چیت کی، جب گفتگو سے فارغ ہوا تو پانی منگوا کر کلّی کی تاکہ اس سے گفتگو کی نجاست دور ہوجائے۔ 
	اور کہا گیا ہے کہ فلاں نے خود کو تکبر کی اس سیڑھی پر پہنچا دیا ہے کہ اگر وہ گر گیا تو پھر ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔
	جاحظ کا قول ہے کہ قریش میں بنو مخزوم اور بنو امیہ کا تکبر مشہور تھا جبکہ عرب میں بنو جعفر بن کلاب اور بنو زرارہ بن عدی کا تکبر مشہور تھا اور اکاسرہ (1) لوگوں کو اپنا غلام تصور کرتے تھے اور خود کو ان کا مالک تصور کرتے تھے۔
	بنو عبدالدار قبیلہ کے ایک آدمی سے کہا گیا کہ تم خلیفہ کے پاس کیوں نہیں آتے؟ وہ بولا: میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ پُل میرے عزت و احترام کو نہیں اٹھاس کے گا۔
	حجاج بن ارطاۃ سے کہا گیا کیا وجہ ہے کہ تم جماعت میں شامل نہیں ہوتے، اس نے جواب دیا کہ میں دکانداروں کے قرب سے گھبراتا ہوں ۔ 
	اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وائل بن حجر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ہاں آیا اور آپ نے اسے زمین کا ایک ٹکڑا دیا اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حضرتِ امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے فرمایا کہ اسے وہ زمین دکھا دو اور لکھ بھی دو!
	 چنانچہ حضرت معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ شدید گرمی کے عالم میں اس کے ساتھ روانہ ہوئے، وہ اونٹنی پر سوار ہوگیا اور آپ پیدل چلنے لگے، جب انہیں گرمی نے نہایت تنگ کیا تو انہوں نے اسے کہا کہ مجھے اپنے پیچھے اونٹنی پر بٹھالو۔ اس نے کہا: میں تمہیں اپنی اونٹنی پر نہیں بٹھاؤں گا کیونکہ میں ان بادشاہوں میں سے نہیں جو لوگوں کو اپنے پیچھے اونٹنیوں پر سوار کرلیتے ہیں ۔ 
	آپ نے فرمایا: میں ننگے پاؤں ہوں مجھے اپنے جوتے ہی دے دو، وائل بولا: اے ابو سفیان کے بیٹے! میں بخل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… ایران کے سلاطین جو کِسریٰ سے موسوم تھے۔