Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
455 - 676
باب66
مذمّتِ تکبّر و خود بینی 
	اللہ تَعَالٰی تم کو اور مجھ کو دنیا اور آخرت میں بھلائی کی توفیق دے، خوب غور کر لو کہ تکبر اور خودبینی فضائل سے دور کردیتے ہیں اور رذائل کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں اور تیری رذالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تکبر تجھے نصیحت سننے نہیں دیتا اور تو اچھی عادتوں کے قبول کرنے سے پس و پیش کرتا ہے، اسی لئے دانشمندوں نے کہا ہے کہ حیا اور تکبر سے علم ضائع ہوجاتا ہے، علم تکبر کے لئے مصیبت ہے جیسے کہ بلند و بالا عمارتوں کے لئے سیلاب مصیبت ہوتا ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے: وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔(1)
	فرمانِ نبوی ہے: جو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے چلتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔(2)
	داناؤں کا قول ہے کہ تکبر اور خود بینی کی وجہ سے ملک ہمیشہ نہیں رہتا اور اللہ تَعَالٰی نے بھی تکبر کا فساد کے ساتھ بیان فرمایا ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ (3)
یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو عطا کرتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے۔
	 اور فرمانِ الٰہی ہے:
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ ؕ (4)
البتہ میں ان لوگوں سے جو زمین میں تکبر اور فساد کرتے ہیں اپنی نشانیوں کو پھیر لوں گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترمذی،کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی الکبر،۳/۴۰۲، الحدیث ۲۰۰۵
2…بخاری، کتاب اللباس، باب قول اللہ تعالٰی قل من حرم۔۔۔الخ ، ۴/۴۵، الحدیث ۵۷۸۳
3…ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم ان کیلئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد۔ (پ۲۰، القصص : ۸۳)
4…ترجمۂ کنزالایمان:اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں  ۔ (پ۹، الاعراف:۱۴۶)