حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے عرض کیا گیا کہ کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے یہ فرمانِ الٰہی نہیں سنا؟(1)
اس روایت کی وہ حدیث بھی تائید کرتی ہے جس میں ہے کہ جہنم سے گردن نکلے گی، جس کی دوآنکھیں دیکھنے کے لئے اور بولنے کے لئے زبان ہوگی، وہ کہے گی کہ آج میں ہر اس شخص پر مقرر کی گئی ہوں جو اللہ تَعَالٰی کے ساتھ شریک ٹھہراتا تھا اور وہ انہیں اس پرندے سے بھی زیادہ تیزی سے دیکھ لے گی جو تِل پسند کرتا ہے اور زمین پر اسے ڈھونڈھ لیتا ہے۔(2)
میزان جس میں لوگوں کے اَعمال تولے جائیں گے، اس کے متعلق نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کا نیکیوں کا پلّہ نور کا اور برائیوں والا پلّہ ظلمت کا ہے۔(3)
ترمذی کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جنت عرشِ الٰہی کے دائیں اور جہنم بائیں جانب رکھی جائے گی، نیکیوں کا پلڑا دائیں اور برائیوں کا پلڑا اس کے بائیں طرف ہوگا لہٰذا نیکیوں کا پلڑا جنت کی مقابل سمت میں اور برائیوں کا پلڑا جہنم کے مقابل ہوگا۔(4)
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے تھے کہ نیکیاں اور برائیاں ایسے ترازو میں تولی جائیں گی جس کے دو پلڑے اور زبان ہوگی۔ آپ فرمایا کرتے تھے: جب اللہ تَعَالٰی بندوں کے اَعمال تولنے کا ارادہ فرمائے گا تو انہیں جسموں میں تبدیل فرمادے گا اور پھر قیامت کے دن انہیں تولاجائے گا۔
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جامع الاصول فی احادیث الرسول، الکتاب التاسع، الباب الثالث، الفصل الاول، الفرع الثانی فی صفۃ النار، نوع سادس، ۱۰/۴۷۶،تحت الحدیث ۸۰۶۵ والتذکرۃ للقرطبی، باب ما جاء فی شکوی النار و کلامہا۔۔۔الخ، ص۳۸۴
2…التذکرۃ للقرطبی، باب ماجاء فی شکوی النار وکلامہا۔۔۔الخ ،ص۳۸۴ وجامع الاصول فی احادیث الرسول، الکتاب التاسع ، الباب الثالث ، الفصل الاول، الفرع الثانی فی صفۃ النار، نوع سادس ،۱۰/۴۷۶،تحت الحدیث ۸۰۶۵
3…التذکرۃ للقرطبی، بیان کیفیۃ المیزان۔۔۔الخ، ص۳۰۲
4…نوادر الاصول ، الاصل الرابع فی أدب الانتعال ،۱/۳۵