Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
453 - 676
 جہنم کی آگ اس کی گرمی سے اُ نہتر حصے زیادہ گرم ہے۔(1)
	فرمانِ نبوی ہے کہ اگر جہنمیوں میں سے کوئی جہنمی اپنی ہتھیلی دنیا میں نکال دے تو اس کی گرمی سے دنیا جل جائے اور جہنم کے فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ دنیا میں ظاہر ہو اور لوگ اسے دیکھ لیں تو اس کے جسم پر غضبِ الٰہی کے بے انتہا آثار دیکھ کر دنیا کے سب لوگ ہلاک ہوجائیں ۔ (2)
	مسلم وغیرہ کی حدیث ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمصحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے دھماکہ سنا، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ اس پتھر کے جہنم کی گہرائی میں گرنے کی آوازہے جو آج سے ستر سال پہلے جہنم میں گرایا گیا تھا اوروہ اب اس کی گہرائی تک پہنچا ہے۔ (3)
	حضرتِ عمربن خطاب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ جہنم کو بہت یاد کیا کرو کیونکہ اس کی گرمی شدید، اس کی گہرائی بہت بعید اور اس کے ہتھوڑے لوہے کے ہیں ۔ 
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا  فرمایا کرتے تھے کہ جہنم اپنے رہنے والوں کو اس طرح اُچک لے گی جیسے پرندے دانوں کو اُچک لیتے ہیں ، اور آپ سے اس فرمانِ الٰہی:
اِذَا رَاَتْہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا ﴿۱۲﴾ (4)
اور جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ اس سے غصہ سے بھری ہوئی آواز سنیں گے۔
 کے معنی دریافت کئے گئے کہ کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں ! تم نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان نہیں سنا کہ جو عمدًا کسی جھوٹی بات کو میری طرف منسوب کرتا ہے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی دو آنکھوں کے درمیان سمجھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسلم،کتاب الجنۃ۔۔۔الخ ، باب  فی شدۃ حرنار۔۔۔الخ ، ص ۱۵۲۳، الحدیث۳۰۔  (۲۸۴۳)
2…التذکرۃ للقرطبی، باب ما جاء فی صفۃ جہنم۔۔۔الخ، ص۳۸۱
3…مسلم کتاب الجنۃ۔۔۔الخ ، باب فی شدۃ حرنار۔۔۔الخ ، ص ۱۵۲۳، الحدیث۳۱۔ (۲۸۴۴)
4…ترجمۂ کنزالایمان:جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا ۔(پ۱۸، الفرقان:۱۲)