Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
452 - 676
 متعلق ارشادِ الٰہی ہے:
غِلَاظٌ شِدَادٌ (1)		وہ سخت اور انتہائی مضبوط ہوں گے۔
	فرمایا: ہر فرشتے کے دوکندھوں کا درمیانی فاصلہ ایک سال کا سفر ہوگا اور ان میں اتنی طاقت ہوگی کہ اگر وہ اس ہتھوڑے سے جوان کے ہاتھوں میں ہوگا کسی پہاڑ پر ایک ضرب لگائیں تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور وہ ہر ضرب سے ستر ہزار جہنمیوں کو جہنم کی گہرائیوں میں گرائیں گے۔ (2)
	فرمانِ الٰہی ہے:
عَلَیۡہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ ﴿ؕ۳۰﴾ (3)		اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں ۔
	اس ارشاد سے مراد جہنمیوں پر متعین فرشتوں کے سردار ہیں ورنہ جہنم کے فرشتوں کی تعداد اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتا، فرمانِ الٰہی ہے کہ ’’تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘(4)
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے جہنم کی وسعت کے متعلق سوال کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا: بخدا ! میں نہیں جانتا کہ جہنم کتنا وسیع و عریض ہے لیکن ہم اتنا جانتے ہیں جہنم پر متعین فرشتوں میں سے ہر ایک اتنا عظیم ہے کہ ان کے کان کی لَو اور کندھے کا درمیانی فاصلہ ستر سال کے سفر کے برابر ہے اور جہنم میں پیپ اور خون کی وادیاں بہتی ہیں ۔ 
	ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ جہنم کی دیواروں کی چوڑائی چالیس سال کے سفر کے برابر ہے۔ (5)
	 مسلم شریف کی روایت ہے: حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کے سترویں حصہ کی گرمی کے برابر گرم ہے، صحابہ کرام نے عرض کی :یارسول اللہ! یہ بھی کافی گرم ہے۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂ کنزالایمان:سخت کرّے (طاقتور فرشتے)۔ (پ۲۸، التحریم: ۶)
2…حلیۃ الاولیاء ، کعب الاحبار، ۵/۴۰۵، الحدیث۷۵۳۱  و التخویف من النار والتعریف بحال دار البوارلابن رجب الحنبلی، ص۲۲۶
3…ترجمۂ کنزالایمان:اس پر انیس داروغہ ہیں۔ ( پ۲۹، المدثر:۳۰)
4…ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارے ربّ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (پ۲۹، المدثر:۳۱)
5…ترمذی ،کتاب صفۃ جھنم ، باب ما جاء فی صفۃ شراب أہل النار، ۴/۲۶۳، الحدیث ۲۵۹۳