Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
451 - 676
 باب65
جہنّم و میزان 
	اگرچہ جہنم اور میزان کا ذکر ہم پہلے بھی کر چ کے ہیں ، اب دوبارہ اس کا ذکر اس لئے کررہے ہیں کہ شاید غافل و بیکار دل اس دوبارہ ذکر سے کچھ مزید اِستفادہ کرسکیں اور بار بار ذکر کرنے کی ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ اللہ تَعَالٰی کے فرمان کی اتباع ہوجائے کیونکہ اللہ تَعَالٰی نے بھی قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر فرمایا ہے اور جہنم اور میزان کے اَحوال کی ہولناکیوں کو بہت عظیم قرار دیا ہے تاکہ عقلمندوں کے دل اس کے ذکر سے تنبیہ حاصل کریں اور جان لیں کہ دنیا کا کوئی دکھ درد، جہنم کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور آخرت ہی عمدہ اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔
	اب ہم جہنم کے حالات کا بیان کرتے ہیں ، اللہ تَعَالٰی ہمیں اپنے لطف و عطا کے طفیل اس سے امان بخشے۔ (آمین)
	حدیث شریف میں ہے کہ جہنم سخت تاریک ہے جس میں کوئی روشنی اور شعلہ نہیں ہے، اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ پر ستر ہزار پہاڑ ہیں ، ہر پہاڑ پر ستر ہزار آگ کی گھاٹیاں ہیں ، ہر گھاٹی میں ستر ہزار درازیں ہیں ، ہر دراز میں آگ کی ستر ہزار وادیاں ہیں ہر وادی میں آگ کے ستر ہزار مکانات ہیں ، ہر مکان میں ستر ہزار آگ کے گھر ہیں ، ہر گھر میں ستر ہزار سانپ اور ستر ہزار بچھو ہیں ، ہر بچھو کی ستر ہزار دُمیں ہیں ہر دُم میں ستر ہزار مہرے ہیں ، ہر مہرے میں زہر کے ستر ہزار مٹ کے ہیں ، جب قیامت کا دن ہوگا، ان پر سے پردہ اٹھالیا جائے گا، تب جن و اِنس کے دائیں بائیں غبار کا خیمہ تن جائے گا، آگے بھی غبار، پیچھے بھی غبار اور ان کے اوپر بھی جہنم کا دھواں اور غبار ہوگا، جب وہ اسے دیکھیں گے تو گھٹنوں کے بَل گِر کر پکاریں گے کہ اے ربِ ذوالجلال! ہمیں اس سے بچا!(1)
	مسلم شریف کی روایت ہے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: قیامت کے دن جہنم کو ستر ہزار لگامیں ڈال کر لایا جائے گااور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچ رہے ہوں گے۔(2)
	حدیث شریف میں ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے جہنم کے فرشتوں کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے، جن کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…التذکرۃ للقرطبی، باب ما جاء ان جہنم تسعر۔۔۔الخ ، ص۳۷۲ ماخوذًا
2…مسلم کتاب الجنۃ۔۔۔الخ ، باب فی شدۃ حرنار۔۔۔الخ ، ص۱۵۲۳، الحدیث۲۹۔ (۲۸۴۲)