Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
450 - 676
 میں داخل ہوں گے۔ اے بھائیو! تمہارے آگے ایک ایسا دن ہے جو تمہارے سال و ماہ کے اندازوں کے مطابق پچاس ہزار برس کا ہے جو ہلچل مچانے والا اور بھاگ دوڑ کا دن ہے جس دن لوگ خالقِ کائنات کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے جو حسرت، افسوس، نکتہ چینی، محاسبہ، چیخ و پکار، مصیبت، سختی اور دوبارہ زندہ ہونے کا دن ہے جس دن انسان اپنے کیے ہوئے اَعمال دیکھے گا ۔افسوس!پچھتاوے کا دن، جس دن بعض چہرے سفید اور بعض سیاہ ہوں گے، جس دن کسی کو مال اور اولاد فائدہ نہیں دے گی مگر جو قلب سلیم لیکر آئے گا وہی فائدہ پائے گا، جس دن ظالموں کو معذرت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور ان کے لئے لعنت اور براٹھکانا ہوگا۔
	حضرت مقاتل بن سلیمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن مخلوق سو برس کامل خاموش رہے گی اور لوگ سو برس تک تاریکیوں میں حیران و پریشان رہیں گے اور سوبرس وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں گے، رب کے ہاں جھگڑے کریں گے، قیامت کے دن کی طوالت پچاس ہزار برس کی ہوگی مگر مومن مخلص پر ایسے گزرے گا، جتنا ہلکی فرض نماز پڑھنے میں وقت صرف ہوتا ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے کہ بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک کہ اس سے چار چیزوں کا سوال نہیں کرلیا جائیگا، اس نے اپنی عمر کیسے صرف کی، اپنے آپ کو کس چیز میں مصروف رکھا، اپنے علم پر کتنا عمل کیا اور دولت کیسے کمائی اور کیسے خرچ کی ہے؟(1)
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی نے ہر ایک نبی کو قبول ہونیوالی ایک ایک دعا عطا فرمائی تھی، ان سب نے اپنی اپنی وہ دعا دنیا میں مانگ لی مگر میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ رکھ لیا ہے۔(2)
	اے ربِ ذوالجلال! رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی حرمت و توقیر کے طفیل ہمیں ان کی شفاعت سے محروم نہ فرما، وصلی اللہ علیہ وعلٰی آلہ وصحبہ وسلم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند البزا ر، ۷/۸۷ ، الحدیث۲۶۴۰ و المعجم الکبیر، ۲۰/۶۰، الحدیث ۱۱۱
2…شعب الایمان، الرابع عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ ، فصل فی براعۃ۔۔۔الخ ، ۲/۱۸۱، الحدیث ۱۴۸۸