{4}…مگر اے ربِ ذوالجلال! میری امیدیں تیری رحمت کے ساتھ ہیں ، توہی میرا خالق اور میرے گناہوں کو بخشنے والا ہے۔
محض دعویٰ بے کار ہے :
’’عُیُونُ الْاَخْبَار‘‘ میں ہے حضرتِ شقیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتے ہیں : لوگ تین باتیں محض زبانی کرتے ہیں مگر عمل اس کے خلاف کرتے ہیں :ایک یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تَعَالٰی کے بندے ہیں لیکن کام غلاموں جیسے نہیں کرتے بلکہ آزادوں کی طرح اپنی مرضی پر چلتے ہیں ۔
دوسرے ؛یہ کہتے ہیں کہ اللہ تَعَالٰی ہی ہمیں رزق دیتا ہے لیکن ان کے دل دنیا اور متاعِ دنیا جمع کئے بغیر مطمئن نہیں ہوتے اور یہ ان کے اقرار کے سراسر خلاف ہے۔
تیسرے؛ کہتے ہیں کہ آخر ہمیں مرجانا ہے مگر کام ایسے کرتے ہیں جیسے انہیں کبھی مرنا ہی نہیں ۔
اے مخاطب! ذرا سوچ تو سہی! اللہ کے سامنے تو کون سا منہ لے کر جائے گا اور کونسی زبان سے جواب دے گا؟ جب وہ تجھ سے ہر چھوٹی بڑی چیز کے متعلق سوال کرے گا۔ ان سوالات کے لئے ابھی سے اچھا جواب تلاش کرلے (تاکہ اس وقت شرمندگی نہ اٹھانا پڑے)۔فرمانِ الٰہی ہے:
وَ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللّہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۸﴾(1)
اور اللہ سے ڈرو بیشک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے اور خبر رکھتا ہے۔
پھر اللہ نے مومنوں کو سمجھا یا کہ وہ اس کے احکامات کونہ چھوڑیں اور ہر حالت میں اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے رہیں۔
اِطاعت الٰہی کا ثمرہ :
حدیث شریف میں آیا ہے کہ عرشِ الٰہی کے پائے پر تحریر ہے کہ جو میری اطاعت کرے گا میں اس کی بات مانوں گا، جو مجھ سے محبت کرے گا میں اسے اپنا محبوب بناؤں گا، جو مجھ سے مانگے گا میں اسے عطا کرونگا اور جو بخشش کی طلب کرے گا میں اسے بخش دوں گا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔(پ۲۸،الحشر:۱۸)
2…بستان الواعظین و ریاض السامعین لابن الجوزی، ۱۷مجلس فی قولہ تعالی: ان اللہ وملا ئکتہ۔۔۔الخ، ص۲۵۶