Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
448 - 676
باب 64
آفاتِ قیامت 
	مروی ہے کہ حضرتِ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے دریافت کیا کہ یارسول اللہ! کیا قیامت کے دن دوست دوست کو یاد کرے گا؟ آپ نے فرمایا: تین جگہوں پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا، میزانِ عمل کے وقت تاآنکہ وہ اپنا ہلکا یا بھاری پلڑا دیکھ نہ لے، نامۂ اَعمال کے اُڑنے کے وقت (1)یا تو اسے دائیں ہاتھ یا بائیں ہاتھ میں نامۂ اَعمال دے دیا جائے اور اس وقت جبکہ جہنم سے آگ کی گردن باہر نکلے گی اور لوگوں کی طرف بڑھتی چلی آئے گی اور کہے گی :میں ہر مشرک، سرکش، متکبر اور اس شخص پر مقرر کی گئی ہوں جو قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تھا پس وہ انہیں اپنے شعلوں میں لپیٹ کر جہنم کی گھاٹیوں میں ڈال دے گی اور جہنم پر بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز پل ہے اور اس پر کانٹے ہوں گے، لوگ اس پر بجلی کی چمک اور تیز ہوا کی طرح گزریں گے۔(2)
صورِ اسرافیل کی حقیقت:
	حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: جب اللہ تَعَالٰی نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا تو پھر صور کو پیدا فرمایااور اسرافیل کو دیا وہ اسے منہ میں رکھے عرش کی طرف نگاہ جمائے کھڑا ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ملتا ہے۔ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: یارسول اللہ! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا وہ بَیل کا ایک سینگ ہے۔ میں نے کہا: وہ کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: بہت بڑے دائرے والا ہے، قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اس کے دائرے کا قطر زمین اور آسمان کی چوڑائی کے برابر ہے، اسے تین مرتبہ پھونکا جائے گا، پہلے گھبراہٹ کے لئے، دوسرے موت کے لئے اور تیسری مرتبہ قبروں سے اٹھنے کے لئے، پھر روحیں ایسے نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیاں ۔ وہ زمین و آسمان کے خلا کو پر کردیں گی اور ناک کے راستے جسموں میں داخل ہو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…یعنی تقیسم ہوتے وقت۔  علمیہ
2…مسند احمد ، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا، ۹/۴۱۵،الحدیث ۲۴۸۴۷