Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
447 - 676
	قراء ت بھی تین چیزوں سے مکمل ہوتی ہے:’’پہلا ‘‘یہ کہ تو سورۂ فاتحہ کو صحیح تلفظ سے ٹھہر ٹھہر کر گانے کی طرز سے احتراز کرتے ہوئے پڑھے، ’’دوسرا‘‘ یہ کہ اسے غور و فکر سے پڑھے اور اس کے معانی میں سوچ بچار کرے، ’’تیسرا‘‘ یہ کہ جو کچھ پڑھے اس پر عمل بھی کرے۔
	رُکوع بھی تین اشیاء سے کامل ہوتا ہے:’’پہلا‘‘ یہ کہ پیٹھ کو برابر رکھو، اونچا یا نیچا نہ رکھو، ’’دوسرا‘‘ یہ کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھو اور انگلیاں کھلی ہوئی ہوں ، ’’تیسرا‘‘ یہ کہ کامل اطمینان سے رُکوع کرو اور تعظیم و وقار سے رُکوع کی تسبیحات مکمل کرو۔ 
	سجدہ بھی تین باتوں سے مکمل ہوتا ہے:’’پہلا‘‘ یہ کہ تو اپنے ہاتھ کانوں کے برابر رکھ، ’’دوسرا‘‘ یہ کہ کُہنِیاں کھلی رکھ، ’’تیسرا‘‘ یہ کہ مکمل سکون سے سجدہ کی تسبیحات مکمل کر۔
	قعدہ بھی تین چیزوں سے پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے:’’پہلا‘‘ یہ کہ تو دایاں پاؤں کھڑا رکھ اور بائیں پر بیٹھ، ’’دوسرے‘‘ یہ کہ تشہد پوری تعظیم سے پڑھ اور اپنے اور مسلمانوں کے لئے دعا مانگ، ’’تیسرے‘‘ یہ کہ اس کے اختتام پر سلام پھیر۔
	سلام اس طریقہ سے پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے کہ دائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے تیری یہ سچی نیت ہوکہ میں دائیں طرف کے فرشتے، مردوں اور عورتوں کو سلام کررہا ہوں اور اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے نیت کر اور اپنی نگاہ اپنے دو کندھوں سے متجاوز نہ کر۔
	اسی طرح اخلاص بھی تین چیزوں سے پورا ہوتا ہے: ’’ایک‘‘ یہ کہ نماز سے تیرا مدعا رضائے الٰہی کا حصول ہو لوگوں کی رضا مندی کا حصول نہ ہو،’’ دوسرے‘‘ یہ کہ نماز کی توفیق اللہ کی طرف سے جان، ’’تیسرے‘‘ یہ کہ تو اس کی حفاظت کرتا کہ اسے قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں پیش کرس کے کیونکہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ (1)		جو شخص نیکیا ں لے کر آیا۔
	یہ نہیں فرمایا   ’’  مَنْ عَمِلَ بِالْحَسَنَۃِ  ‘‘  جس نے نیکیاں کیں ،لہٰذا اپنی نیکیوں کو بُرے اَعمال سے برباد کر کے اس کے حضور میں نہ جا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:جو نیکی لائے۔ (پ۲۰، القصص:۸۴)