ہے جسے بے خبری او رجہالت میں ادا کیا جائے۔ (1)
٭…دوسرا’’وضو‘‘ ہے کیونکہ فرمانِ نبوی ہے کہ طہارت کے بغیر نماز ہوتی ہی نہیں ۔ (2)
٭…تیسرا’’لباس‘‘ ہے، چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (3) تم ہر نماز کے وقت زینت حاصل کرو۔
یعنی ہر نماز کے وقت کپڑے پہنو۔
٭…چوتھا’’ وقت کی پابندی‘‘ ہے، فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾ (4) بے شک نماز مومنوں پر وقت مقرر پر فرض ہے۔
٭…پانچواں ’’قبلہ کی جانب منہ کرنا‘‘ ہے، فرمانِ الٰہی ہے:
فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ وَحَیۡثُ مَا کُنۡتُمْفَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ شَطْرَہٗؕ
پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیردو اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیردو۔
٭…چھٹی ’’نیت‘‘ ہے چنانچہ فرمانِ نبوی ہے: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَ اِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیٍٔ مَانَویٰ(6)اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔
٭…ساتویں ’’ تکبیر تحریمہ ‘‘ہے، فرمانِ نبوی ہے: تَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ وَ تَحْلِیْلُھَا التَّسْلِیْمُ (7) اس میں دنیاوی افعال کو حرام کرنیوالی تکبیر تحریمہ اور حلال کرنے والا سلام پھیرنا ہے۔
٭…آٹھواں ’’قیام‘‘ ہے کیونکہ فرمانِ الٰہی ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف للامام عبدالرزاق ،کتاب العلم، باب الرخص۔۔۔الخ ،۱۰/۲۶۳، الحدیث ۲۰۷۳۵ ماخوذاً
2…الدار قطنی،کتاب الصلاۃ ، باب ذکر وجوب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱/۴۷۵، الحدیث۱۳۲۶ملتقطا
3…ترجمۂکنزالایمان: اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔ (پ۸، الاعراف :۳۱)
4…ترجمۂکنزالایمان:بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ (پ۵، النساء : ۱۰۳)
5…ترجمۂکنزالایمان: ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو۔ (پ۲، البقرۃ:۱۴۴)
6…بخاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔الخ ، ۱/۵، الحدیث۱
7…المستدرک للحاکم، کتاب الطہارۃ، باب مفتاح الصلاۃ۔۔۔الخ ، ۱/۳۴۲، الحدیث ۴۶۹