Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
443 - 676
ہیں مگر ان کی نماز میں سے تہائی یا چوتھائی یا پانچواں یا چھٹا حصہ یہاں تک کہ آپ نے دسویں حصے تک گنا اور فرمایا: ثواب لکھا جاتا ہے ۔(1) یعنی نماز میں سے اسی حصہ کا ثواب ملتا ہے جس کو وہ مکمل یکسوئی اور توجہ سے پڑھتا ہے۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مروی ہے: آپ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تَعَالٰی کی طرف متوجہ ہو کر مکمل یکسوئی سے دورکعت نماز ادا کی وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوگیا جس دن کہ اس کی ماں نے اسے جَنا تھا۔(2)
	حقیقت یہ ہے کہ بندے کی نماز باعظمت تب ہوتی ہے جب اس کی تمام تر توجہ اللہ تَعَالٰی کی طرف ہو اور وہ نفسانی خیالات میں مشغول ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنی غلطیوں اور لغزشوں پر معذرت کرنے کے لئے بادشاہ کے دربار میں جارہا ہو اور جب وہ بادشاہ کے حضور پہنچ گیا اور بادشاہ اسے سامنے کھڑا دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ دائیں بائیں دیکھنے لگے لہٰذا بادشاہ اس کی ضرورت پوری نہیں کریگا اور بادشاہ اس کی توجہ کے مطابق اس پر عنایت کریگا اور اس کی بات سنے گا، اسی طرح جب بندہ نماز میں داخل ہوجاتا ہے اور دوسری باتوں کے خیالات میں کھوجاتا ہے تو اس کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔
	جان لیجئے کہ نماز کی مثال اس دعوتِ ولیمہ کی سی ہے جسے بادشاہ نے منعقد کیا ہو اور اس میں قسم قسم کے کھانے تیار کئے گئے ہوں ، کھانے اور پینے کی ہر چیز کی جداگانہ لذت اور ذائقہ ہو پھر وہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دے، ایسے ہی نماز ہے، اللہ تَعَالٰی نے لوگوں کو اس کی جانب بلایا ہے اور اس میں مختلف اَفعال اور رنگا رنگ ذکر ودیعت رکھے ہیں تاکہ بندے اس کی عبادت کریں اور عبودیت کے رنگا رنگ مزے لیں ، اس میں اَفعال کھانے کی طرح اور اَذکار پینے کی اشیاء جیسے ہیں ۔ 
	یہ بھی کہا گیا ہے کہ نماز میں بارہ ہزار اَفعال تھے، پھر یہ بارہ ہزار اَفعال بارہ افعال میں مخصوص کردیئے گئے لہٰذا جو شخص بھی نماز پڑھنا چاہے اسے ان بارہ چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ اس کی نماز کامل ہوجائے، جن میں سے چھ خارجِ نماز اور چھ داخلِ نماز ہیں :
٭…پہلا’’ علم‘‘ ہے کیونکہ فرمانِ نبوی ہے کہ وہ تھوڑا عمل جسے انسان مکمل علم سے ادا کرے، اس زیادہ عمل سے بہتر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند احمد ،۳۱/۱۸۹، الحدیث:۱۸۸۹۴و  فردوس الاخبار، ۱/۱۹۱، الحدیث۷۲۰
2…المعجم الاوسط، ۴/۳۷۹، الحدیث ۶۳۰۶