مزید اِرشاد فرمایا:
وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ (1) اور تم نماز قائم کرو۔
اِرشادِ خداوندی ہوا:
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ (2) اور نماز قائم کیجئے۔
ایک مقام پر اِرشاد ہے:
وَالْمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ (3) اور جو نمازوں کو قائم کرنے والے ہیں ۔
قرآنِ مجید میں جہاں کہیں بھی نماز کا ذکر ہے وہاں اسے قائم کرنے کا بھی حکم ہے اور اللہ تَعَالٰی نے جب منافقوں کا ذکر کیاتو فرمایا:
فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾ اَلَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ (4)
پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے سستی کرنے والے ہیں ۔
اللہ تَعَالٰی نے اس آیت میں منافقوں کو’’ مصلّین‘‘ کہا ہے اور مومنوں کا ذکر کرتے وقت فرمایا:
وَالْمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ (5) جو نمازوں کو قائم کرنے والے ہیں ۔
اور یہ اس لئے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نمازی تو بہت ہیں مگر صحیح معنی میں نماز قائم کرنیوالے کم ہیں ، غافل لوگ تو بس رواج کے طور پر عمل کرتے ہیں اور انہیں اس دن کی یاد نہیں آتی جس دن اعمال پیش کئے جائیں گے، کیا معلوم ان کی نمازیں مقبول ہوں گی یا مردود؟
حضرتِ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مروی ہے: آپ نے فرمایا: بیشک تم میں سے بعض وہ ہیں جو نماز پڑھتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور نماز قائم رکھو۔ (پ۱، البقرۃ : ۴۳)
2…ترجمۂکنزالایمان: نماز قائم رکھ۔ (پ۱۶، طٰہٰ : ۱۴)
3… ترجمۂکنزالایمان: اور نماز قائم رکھنے والے۔ (پ۶، النساء : ۱۶۲)
4…ترجمۂکنزالایمان: تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔(پ۳۰، الماعون : ۴،۵)
5…ترجمۂکنزالایمان:اور نماز قائم رکھنے والے ۔(پ۶، النساء : ۱۶۲)