باب63
فضیلتِ نماز
چونکہ نماز افضل ترین عبادت ہے لہٰذا ہم نے کتاب اللہ کی پیروی کرتے ہوئے اسکی ترغیب دینے کیلئے دوسری مرتبہ اس کا ذکر کیا ہے کیونکہ جو کچھ ہم تحریر کرچ کے ہیں نماز کے فضائل میں اس سے کہیں زیادہ آیات و احادیث وارد ہوئی ہیں چنانچہ اِرشاد نبوی ہے کہ بندے کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی انعام نہیں ہے کہ اسے دورکعت نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ (1)
حضرت محمد بن سیرین رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ اگر مجھے جنت اور دورکعت نماز میں سے کسی ایک کو پسند کرنے کا کہا جائے تو میں جنت پر دورکعت نماز کو ترجیح دوں گا کیونکہ دورکعتوں میں رضائے الٰہی اور جنت میں میری رضا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے جب سات آسمانوں کو پیدا فرمایا تو انہیں فرشتوں سے ڈھانپ دیا، وہ اس کی عبادت سے ایک لمحہ کو بھی غافل نہیں ہوتے اور اللہ تَعَالٰی نے ہر آسمان کے فرشتوں کے لئے عبادت کی ایک قسم مقرر فرمادی ہے چنانچہ ایک آسمان والے قیامت تک کے لئے قیام میں ہیں ، کسی آسمان والے رُکوع میں ، کسی آسمان والے فرشتے سجود میں اور کسی آسمان والے اللہ تَعَالٰی کی ہیبت اور جلال سے اپنے بازو جھکائے ہوئے ہیں ، عِلِّیِّین اور عرشِ الٰہی کے فرشتے صف بستہ عرشِ الٰہی کا طواف کرتے رہتے ہیں ، اللہ تَعَالٰی کی حمد کرتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے ہیں مگر اللہ تَعَالٰی نے یہ تمام عبادتیں ایک نماز میں جمع کردی ہیں تاکہ مومنوں کو آسمانی فرشتوں کی ہر عبادت کا حصہ عنایت فرماکر انہیں عزت و توقیر بخشے اور اس میں تلاوتِ قرآنِ مجید کی عزت بخشی اور مومنوں سے عبادت کا شکر ادا کرنے کی فرمائش کی، نماز کا شکر اس کی مکمل شرائط و حدود سے ادائیگی ہے، فرمانِ الٰہی ہے:
اَلَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَۙ﴿۳﴾ (2)
جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، ۸/۱۵۱، الحدیث ۷۶۵۶ و فردوس الاخبار، ۴/۱۲۱، الحدیث ۶۳۷۴
2…ترجمۂکنزالایمان:وہ جوبے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔ (پ۱، البقرۃ: ۳)