اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔(1)
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ بہترین وُضو شیطان کو تجھ سے دور بھگا دیتا ہے۔
حضرت مجاہد رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے:’’ جو شخص اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ باوضو، ذکر اور استغفار کرتے ہوئے رات گزارے تو اسے ایسا کرنا چاہئے کیونکہ روحیں جس حالت میں قبض کی جاتی ہیں اسی حالت میں اٹھائی جائیں گی۔‘‘
مروی ہے کہ حضرتِ عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ایک صحابی ٔ رسول کو کعبہ کا غلاف لانے کے لئے مصر بھیجا، وہ صحابی شام کے ایک علاقہ میں ایسی جگہ قیام پذیر ہوئے جس کے قریب اہل کتاب کے ایک ایسے بڑے عالم کا صومعہ تھا کہ کوئی اور عالم اس سے زیادہ با علم نہیں تھا۔
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے قاصد کے دل میں اس عالم سے ملنے اور اس کی علمی باتیں سننے کی خواہش پیدا ہوئی چنانچہ وہ اس کی عبادت گاہ کے دروازہ پر آئے اور دروازہ کھٹکھٹا یا مگر بہت دیر کے بعد دروازہ کھولا گیا، پھر وہ عالم کے پاس گئے اور اس سے علمی گفتگو کرنے کی فرمائش کی اور اسے اس عالم کے تبحر سے بہت تعجب ہوا! آخر میں انہوں نے دروازہ دیر سے کھولنے کی شکایت کی تو وہ عالم بولا کہ جب آپ آئے تو ہم نے آپ پر بادشاہوں جیسی ہیبت دیکھی لہٰذا ہم خوف زدہ ہوگئے اور ہم نے آپ کو دروازہ پر اس لئے روک دیا کہ اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا: اے موسیٰ! جب تجھے کوئی بادشاہ خو ف زدہ کردے تو تو وُضو کر اور اپنے گھر والوں کو بھی وُضو کا حکم دے، تو جس سے ڈررہا ہے اس سے میری امان میں آجائے گا چنانچہ ہم نے دروازہ بند کردیا یہاں تک کہ میں نے اور اس میں رہنے والے تمام آدمیوں نے وُضو کرلیا، پھر ہم نے نماز پڑھی لہٰذا ہم تجھ سے بے خوف ہوگئے اور پھر ہم نے دروازہ کھول دیا۔
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند احمد ، مسند عمر بن الخطاب، ۱/۵۲، الحدیث ۱۲۱