Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
44 - 676
 حضرتِ یعقوب عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: جب میری موت قریب آجائے اور تم رُوح قبض کرنے کو آنے والے ہو تو مجھے پہلے سے آگاہ کر دینا۔ مَلک الموت نے کہا: بہتر! میں اپنی آمد سے پہلے آپ کے پاس دوتین قاصد بھیجوں گا۔ جب حضرتِ یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کا آخری وقت آیا اور مَلک الموت روح قبض کرنے کو پہنچے تو آپ نے کہا: تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ اپنی آمد سے پہلے میری طرف قاصد بھیجو گے۔ عزرائیل نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا تھا، پہلے تو آپ کے سیاہ بال سفید ہوئے، یہ پہلا قاصد تھا، پھر بدن کی چستی و توانائی ختم ہوئی، یہ دوسرا قاصد تھا اور بعد میں آپ کا بدن جھک گیا، یہ تیسرا قاصد تھا۔ اے یعقوب ! (عَلَیْہِ السَّلَام) ہر انسان کے پاس میرے یہی تین قاصد آتے ہیں ۔ (شعر)
مضی الدھروالایام والذنب حاصل		وجاء رسول الموت والقلب غافل
نعیمک فی الدنیا غرور وحسرۃ		و عیشک فی الدنیا محال وباطل
{1}…  زمانہ گزر گیا اور گناہوں کو چھوڑ گیا، موت کا قاصد آپہنچا اور دل (خدا سے) غافل ہی رہا۔
{2}… تیری دنیاوی نعمتیں دھوکہ اور فریب ہیں اور دنیا میں تیرا ہمیشہ رہنا محال اور کذب محض ہے۔
	شیخ ابو علی دَقاق رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہکہتے ہیں کہ میں ایک ایسے بیمار مردِ صالح کی عیادت کو گیا جن کا شمار مشائخِ  کبار میں ہوتا تھا، میں نے اُن کے گرد اُن کے شاگردوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا، شیخ ابو علی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ فرماتے ہیں : وہ بزرگ رو رہے تھے، میں نے کہا :اے شیخ ! کیا آپ دنیا پر رورہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: نہیں ،میں اپنی نمازوں کے قضا ہونے پر رو رہا ہوں ، میں نے کہا: آپ تو عبادت گزار شخص تھے پھر نمازیں کس طرح قضا ہوئیں ؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ہر سجدہ غفلت میں کیا اور ہر سجدہ سے غفلت میں سراٹھایا اور اب غفلت کی حالت میں مررہا ہوں پھر ایک آہ بھری اور یہ اشعار پڑھے:    ؎
تفکرت فی حشری ویوم قیامتی		واصباح خدی فی المقابر ثاویا
فریدا   وحیدا   بعد   عز   ورفعۃ		رھینا بمجرمی والتراب وسادیا
تفکرت فی طول الحساب وعرضہ		وذل  مقامی  حین  اعطی  کتابیا
لکن رجا ئی فیک ربی وخالقی			بانک     تغفر     یاالہی     خطائیا
{1}… میں نے اپنے حشر، قیامت کے دن اور قبر میں رہنے کے بارے میں سوچا۔
{2}…جو عزت و وقار والے وجود کے ساتھ مٹی کا رہین ہوگا اور مٹی ہی اس کا تکیہ ہوگا۔
{3}…میں نے یومِ حساب کی طوالت کے بارے میں سوچا اور اس وقت کی رسوائی کا خیال کیا جب نامۂ اعمال مجھے دیا جائے گا۔