باب62
فضائلِ وُضو
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا اِرشاد ہے کہ جس نے وُضو کیا اور بہترین طریقہ سے کیا پھر دورکعتیں ادا کیں اور اس کے دل میں دنیاوی خیالات نہیں آئے وہ گناہوں سے اس دن کی طرح نکل گیا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔(1)
دوسری روایت کے الفاظ ہیں اور اس نے ان دورکعتوں میں کوئی نامناسب حرکت نہیں کی تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ (2)
فرمانِ نبوی ہے: کیا میں تمہیں ایسے کاموں کی خبر نہ دوں جن سے درجات بلند ہوتے ہیں اور جوگناہوں کا کفارہ بنتے ہیں ، تکلیف دہ اوقات میں مکمل وضو کرنا، مساجد کی طرف چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، پس یہ پنا ہ گاہیں ہیں ۔ یہ لفظ آپ نے تین مرتبہ فرمائے۔(3)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک ایک مرتبہ اعضائِ وضو کو دھوکر فرمایا: یہ وُضو ہے جس کے بغیر اللہ تَعَالٰی نماز کو قبول نہیں کرتا اور آپ نے دو دو مرتبہ اَعضائے وضو کو دھو کر فرمایا کہ جس نے دو دو مرتبہ اَعضائے وضو کو دھویا اسے دُہرا ثواب ملے گا اور آپ نے تین تین مرتبہ اعضائے وُضو کو دھویا اور فرمایا: میرا، مجھ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء کا اور ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا وضو ہے جو خلیل اللہ ہیں ۔ (4)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا اِرشاد ہے: ’’جو وضو کے وقت اللہ کو یاد کرتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کے تمام جسم کو پاک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنز العمال،کتاب الصلاۃ من قسم الأقوال، الباب الأول فی فضل الصلاۃ ، ۴/۱۲۲، الجزء السابع، الحدیث۱۸۹۷۵، ۱۸۹۸۰،۱۸۹۸۳
2…مسند ابی داود الطیالسی، زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ ، ص ۱۸۹، الحدیث ۱۳۳۱
3…شعب الایمان، باب العشرون من شعب۔۔۔الخ ، فضل الوضو ء، ۳/۱۵، الحدیث ۲۷۳۸
4…ابن ماجہ،کتاب الطہارۃ، باب ماجاء فی الوضوء مرۃ۔۔۔الخ ، ۱/۲۵۱، الحدیث۴۲۰ بدون ذکر ابراہیم علیہ السلام