Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
437 - 676
	حضرتِ عبداللہ بن حسن بن حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ کہتے ہیں کہ میں کسی ضرورت کے لئے حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے کہا: جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آئے تو میری طرف کوئی قاصد بھیج دیں یا خط لکھ دیں کیونکہ مجھے اللہ تَعَالٰی سے حیا آتی ہے کہ آپ میرے دروازہ پرتشریف لائیں ۔ 
	حضرتِ علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: ربِّ ذوالجلال کی قسم!
 جو ہر آواز کو سنتا ہے، کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اپنے دل میں مسرت کو جگہ دیتا ہے مگر اللہ تَعَالٰی اس سرور سے لطف عطا فرماتا ہے، پھر جب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو وہ اس سرور کو اس طرح بہا لیجاتی ہے جیسے پانی نشیب میں بہتا ہے یہاں تک کہ اسے اجنبی اونٹ کی طرح ہنکا دیا جاتا ہے، نیز آپ نے فرمایا کہ ناہنجار لوگوں سے حاجت طلب کرنے سے حاجت کا پورا نہ ہونا بہتر ہے، آپ نے مزید فرمایا:’’ اپنے بھائی کے پاس بہت زیادہ ضرورتیں لے کر نہ جاؤ کیونکہ بچھڑا جب تھنوں کو بہت زیادہ چوسنے لگتا ہے تو اس کی ماں اسے سینگ مارتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
لا تقطعن عادۃ الاحسان عن احد		مادمت    تقدر   والایام     تارات
واذکر فضیلۃ صنع اللہ اذ جعلت		الیک لا لک عند الناس حاجات
{1}…جب تک تیرے مقدور میں ہو کسی احسان کرنے میں پس و پیش نہ کر اور یہ زندگی گزرنے والی ہے۔
{2}…اور اللہ تَعَالٰی کی اس نوازش کو یاد رکھ کہ اس نے تجھے لوگوں کا حاجت روا بنا دیا ہے مگر تو کسی کے پاس اپنی حاجت لے کر نہیں جاتا۔
	ایک اور شاعر کہتا ہے:
اقض  الحوائج  ما استطعت			وکن   لہم   اخیک   فارج
فلخیر         ایام          الفتی			یوم    قضی    فیہ    الحوائج
{1}…جہاں تک تجھ سے ممکن ہو لوگوں کی ضرورتیں پور ی کر اور ان کا حاجت روا بھائی بن۔
{2}…بیشک کسی جوان کا عمدہ دن وہی ہے جس میں وہ لوگوں کی حاجت روائی کرتا ہے۔
	اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے: اس شخص کیلئے خوشخبری ہے جس کے ہاتھوں بھلائیوں کا صدور ہوتا ہے اور اس شخص کیلئے ہلاکت ہے جس کے ہاتھوں برائیاں فروغ پاتی ہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…شعب الایمان ، الخامس والعشرون۔۔۔الخ ،حدیث الکعبۃ۔۔۔الخ ،۳/۴۴۵، الحدیث ۴۰۱۷