اگر اس کی نیکیاں زیادہ ہوئیں تو صحیح ورنہ میں اس کی شفاعت کروں گا۔ (1)یہ روایت حلیہ میں ابونعیم نے نقل کی ہے۔
حضرتِ اَنس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے چلتا ہے اللہ تَعَالٰی ہر قدم کے بدلے اس کے نامۂ اَعمال میں ستر نیکیاں لکھ دیتا ہے اور ستر گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ،پس اگر وہ حاجت اس کے ہاتھوں پوری ہوجائے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے آیا تھا اور اگر وہ اسی درمیان مر جائے تو بلاحساب جنت میں جائے گا۔(2)
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے اس کے ساتھ جاتا ہے اور اس کی حاجت پوری کردیتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کے اور جہنم کے درمیان سات خندقیں بنادیتا ہے اور دو خندقوں کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہوتا ہے۔(3)
حضرتِ ابن عمرو رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی کے کچھ ایسے انعامات ہیں جو ان لوگوں کے لئے مخصوص ہیں جو لوگوں کی حاجت روائی کرتے رہتے ہیں اور جب وہ یہ طریقہ چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تَعَالٰی وہ انعامات دوسروں کی طرف منتقل کردیتا ہے۔(4)
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جانتے ہو کہ شیر اپنی دَھاڑ میں کیا کہتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: وہ کہتا ہے کہ اے اللہ! مجھے کسی بھلائی کرنے والے پر مسلط نہ کرنا۔(5)
حضرتِ علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ عَنْہ یہ حدیث مرفوع بیان کرتے تھے کہ جب تم کسی ضرورت یا کام کا ارادہ کرو تو اسے جمعرات کے دن شروع کرو اور جب اپنے گھر سے نکلو تو ’’ سورۂ آلِ عمران ‘‘ کا آخری حصہ ، ’’ آیۃ الکرسی‘‘ ، ’’ سورۃ القدر ‘‘ اور’’ سورۂ فا تحہ ‘‘ پڑھو کیونکہ ان میں دنیا اور آخرت کی بہت سی حاجتیں ہیں ۔ (6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء ، ۶/۳۸۹، الحدیث ۹۰۳۸
2…الترغیب والترہیب ، کتاب البر والصلاۃ وغیرھما، الترغیب فی قضائ۔۔۔الخ ، ۳/۳۱۷، الحدیث ۴۰۲۲
3…موسوعۃ ابن ا بی الدنیا، کتاب قضاء الحوائج ، باب فی فضل المعروف، ۴/۱۶۷، الحدیث ۳۵
4…المعجم الاوسط، ۶/۱۵۸، الحدیث۸۳۵۰
5…مکارم الاخلاق للطبرانی، الجزء الاول۔۔۔الخ ، باب فضل اصطناع المعروف، ص ۳۳۵، الحدیث ۱۱۵
6…تنزیہ الشریعۃ للکنانی،۱/۳۰۹ ، الحدیث ۸۶ و الدرالمنثور، پ۳۰، القدر، ۸/۵۸۳