باب 61
مسلمان کی حاجت بر آری
فرمانِ الٰہی ہے:
وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪ (1) نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی معاونت کرو۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جو شخص کسی بھائی کی امداد اور فائدے کے لئے قدم اٹھاتا ہے، اسے راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں جیسا ثواب ملتا ہے۔(2)
فرمانِ نبوی ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے ایسی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے جن کا کام لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اور اللہ تَعَالٰی نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ انہیں عذاب نہیں کرے گا، جب قیامت کا دن ہوگا ان کے لئے نور کے منبر رکھے جائیں گے وہ اللہ تَعَالٰی سے گفتگو کررہے ہوں گے حالانکہ لوگ ابھی حساب میں ہوں گے۔(3)
فرمانِ نبوی ہے کہ جو کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے کوشش کرتا ہے چاہے اس کی حاجت پوری ہو یا نہ ہو، اللہ تَعَالٰی کوشش کرنیوالے کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے لئے دو برأتیں لکھ دی جاتی ہیں جہنم سے رہائی اور منافقت سے برأت۔(4)
فرمانِ نبوی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے، میں اس کے میزان کے قریب کھڑا ہوں گا،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اور نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (پ۶، المائدہ : ۲)
2…کنزالعمال،کتاب الزکاۃ،الباب الثانی۔۔۔الخ ، الفصل الثالث۔۔۔الخ ، ۳/۱۹۰، الجزء السادس، الحدیث ۱۶۴۶۲
3…موسوعۃ ابن ا بی الدنیا ،کتاب قضاء الحوائج ،۴/۱۷۵، الحدیث۴۹ ماخوذًا و الفردوس الاخبار، ۵/۴۷۶، الحدیث ۸۸۱۱ وکنز العمال،کتاب الزکاۃ من قسم الأفعال، باب فی السخاء والصدقۃ ، ۳/۱۶۶،الجزء السادس، الحدیث ۱۶۱۸۸و تاریخ مدینہ دمشق ،۴۳/۸۲ و المستطرف، الباب الثانی والعشرون فی اصطناع المعروف۔۔۔ الخ ، ۱/۱۹۹
4…مسند حارث ،کتاب الصلاۃ ، باب فی خطبۃ قد کذ بہا ، ۱/۳۰۹، الحدیث ۲۰۵و تنزیہ الشریعۃ للکنانی، ۲/۱۴۳، الحدیث۵۴ و البحر المدید لابن عجیبۃ،۱/۸۶ و المستطرف، الباب الثانی والعشرون فی اصطناع المعروف۔۔۔ الخ، ۱/۱۹۹