Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
43 - 676
باب:6
غَفْلَت
	غفلت سے شرمند گی بڑھتی ہے اور نعمت زائل ہوتی ہے، خدمت کا جذبہ ماند پڑجاتا ہے، حسد زیادہ ہوتا ہے اور ملامت و پشیمانی کی فراوانی ہوتی ہے۔
سب سے بڑی حسرت :
	ایک نیک آدمی نے اپنے اُستاد کو خواب میں دیکھا اور پوچھا: آپ کے نزدیک سب سے بڑی حسرت کونسی ہے؟ اُستاد نے جواب دیا غفلت کی حسرت سب سے بڑی ہے۔
	روایت ہے کہ کسی شخص نے حضرتِ ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کو خواب میں دیکھا اور سوال کیا کہ اللہ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے اپنی بارگاہ میں کھڑا کیا اور فرمایا: اے جھوٹے دعویدار! تو نے میری محبت کا دعویٰ کیا اور پھر مجھ سے غافل رہا۔ (شعر)
انت فی غفلۃ وقلبک ساھی		ذھب العمر والذنوب کماھی
٭…تو غفلت میں مبتلا ہے اور تیرا دل بھولنے والا ہے، عمر ختم ہوگئی اور گناہ ویسے کے ویسے ہی موجود ہیں ۔ 
حکایت:
	ایک صالح آدمی نے اپنے باپ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: اے ابا جان! آپ کیسے ہیں اور کیا حال ہے؟ باپ نے جواب دیا: ہم نے زندگی غفلت میں گزاری اورغفلت ہی میں مرگئے۔
موت کے پیامبر:
	’’ زَہْرُ الرِّیَاض ‘‘ میں ہے کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کا مَلک الموت سے بھائی چارہ تھا، ایک دن مَلک الموت حاضر ہوئے تو حضرتِ یعقوب عَلَیْہِ السَّلَامنے پوچھا تم ملاقات کے لئے آئے ہو یا رُوح قبض کرنے کو؟ عزرائیل نے کہا صرف ملاقات کے لئے آیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: مجھے ایک بات کہنی ہے۔ مَلک الموت بولے: کہئے کونسی بات ہے؟