باب 60
فضیلتِ صدقہ
نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے کہ جو شخص حلال کی کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے (اور اللہ تَعَالٰی حلال کی کمائی ہی کا صدقہ قبول فرماتا ہے) تو اللہ تَعَالٰی اسے اپنی برکت سے قبول فرمالیتا ہے پھر اس کی صاحب صدقہ کے لئے پرورش کرتا ہے جیسے تم اپنے بچھیروں کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔(1)
دوسری حدیث میں ہے (جیسے تم میں سے کوئی ایک اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے) یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
اس حدیث پاک کی تصدیق فرمانِ الٰہی سے ہوتی ہے:
اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ (2)
کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات لیتا ہے۔
اور ارشاد فرمایا:
یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ (3) اللہ تَعَالٰیسود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
فضائلِ صدقات:
صدقہ مال کو کم نہیں کرتا اور اللہ تَعَالٰی اس بخشش کے بدلے انسان کی عزت و وقار کو بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کی رضاجوئی کے لئے تواضع کرتا ہے، اللہ تَعَالٰی اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الزکاۃ ، باب الصدقۃ من کسب طیب، ۱/۴۷۶، الحدیث ۱۴۱۰
2…ترجمۂکنزالایمان:کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتا ہے۔ (پ۱۱، التوبۃ : ۱۰۴)…ترمذی،کتاب الزکاۃ، باب ماجاء فی فضل الصدقۃ، ۲/۱۴۴، الحدیث ۶۶۲
3…ترجمۂکنزالایمان: اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔ (پ۳،البقرۃ:۲۷۶)
4…مسلم ،کتاب البر۔۔۔الخ ، باب استحباب العفو والتواضع ، ص ۱۳۹۷، الحدیث۶۹۔ (۲۵۸۸)