Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
428 - 676
 نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں ، ذوالقرنین نے کہا: وہ کیوں ؟ سردار نے کہا: اس لئے کہ لوگ تمہارے دشمن اور میرے دوست ہیں ، ذوالقرنین نے پوچھا: وہ کیسے؟ سردار نے کہا: وہ تم سے تمہارا ملک، مال اور دنیا کی وجہ سے دشمنی رکھتے ہیں اور چونکہ میں نے ان چیزوں کو چھوڑ دیا ہے لہٰذا کوئی ایک بھی میرا دشمن نہیں ہے اور اسی لئے مجھے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے اور نہ میرے پاس کسی چیز کی کمی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ ذوالقرنین یہ باتیں سن کر انتہائی متاثر ہوا اور حیران واپس لوٹ آیا کسی شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے:   ؎
یامن     تمتع     بالدنیا    وزینتہا		ولا    تنام    عن   اللذات   عیناہ
شغلت نفسک فیما لیس تدرکہ		تقول    للّٰہ    ماذا   حین     تلقاہ
{1}…اے وہ شخص! جو دنیا اور اس کی زینت سے نفع اندوز ہوتا ہے اور دنیاوی لذتوں سے اس کی آنکھیں نہیں سوتیں ۔ 
{2}…خود کو ناممکن چیزوں کے حصول میں مشغول کردیا ہے، جب تو اللہکی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو کیا جواب دے گا؟
	دوسرے شاعر کا قول ہے:   ؎
عتبت   علی   الدنیا   لرفعۃ   جاہل		وتاخیرذی فضل فقالت خذ العذرا
بنو   الجھل   ابنائی   لھذا   رفعتھم		واھل التقوی ابناء ضرتی الاخری
{1}…میں نے دنیا کے جاہلوں کو بہت مرتبہ عطا کرنے اور اہل فضل سے کنارہ کشی کرنے پر ملامت کی تو اس نے مجھ سے کہا کہ میری مجبوری سنئے۔
{2}…جاہل میرے بیٹے ہیں لہٰذا میں انہیں سربلندی دیتی ہوں اور متقی اہل فضل میری سوکن آخرت کے فرزند ہیں (لہٰذا میں ان سے گریز کرتی ہوں )۔
	حضرت محمود باہلی کا قول ہے:   ؎
الا  انما  الدنیا  علی  المرء  فتنۃ			علی  کل  حال  اقبلت او تولت
فان اقبلت فاستقبل الشکر دائما			ومہما   تولت   فاصطبر  وتثبت
{1}…بیشک دنیا آئے یا جائے انسان کے لئے ہر حال میں فتنہ و آزمائش ہے۔
{2}…جب دنیا آتی ہے تو دائمی شکر ساتھ لاتی ہے (تو شکر ادا کر) اور جب جائے تو صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر۔