سے تم بہرہ اندوز ہوسکو۔ سردار نے کہا: ہم سونا چاندی کا جمع کرنا بہت بُرا سمجھتے ہیں کیونکہ جس شخص کو یہ چیزیں ملتی ہیں وہ ان میں مگن ہوجاتا ہے اور اس چیز کو جو ان سے کہیں بہتر ہے، بھول جاتا ہے۔ ذوالقرنین نے کہا: تم نے قبریں کیوں تیار کر رکھی ہیں ؟ ہر صبح ان کی زیارت کرتے ہو، انہیں صاف کرتے ہو اور ان کے قریب کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہو۔ سردار نے کہا: یہ اس لئے کہ جب ہم قبروں کو دیکھیں گے اور دنیا کی آرزو کریں گے تو یہ قبریں ہمیں دنیا سے بے نیاز کردیں گی اور ہمیں حرص و ہوا سے روک دیں گی۔ ذوالقرنین نے پوچھا: میں نے دیکھا ہے کہ زمین کے سبزے کے علاوہ تمہاری کوئی غذا نہیں ہے، تم جانور کیوں نہیں رکھتے تاکہ تم ان کا دودھ دوہو، ان پر سواری کرو اور ان سے بہرہ اندوز ہو سکو، سردار نے کہا: ہم اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتے کہ ہم اپنے پیٹوں کو ان کی قبریں بنائیں اور ہم زمین کے سبزہ سے کافی غذا حاصل کر لیتے ہیں اور یہ انسان کی گزر اوقات کے لئے کافی ہے، جب کھانا حلق سے اتر جاتا ہے (چاہے وہ کیسا ہی ہو) پھر اس کا کوئی مزہ باقی نہیں رہتا۔
پھر اس قائد (سردار) نے ذوالقرنین کے پیچھے ہاتھ بڑھا کر کے ایک کھوپڑی اٹھائی اور کہا: ذوالقرنین! جانتے ہو یہ کون ہے؟ ذوالقرنین نے کہا: نہیں ! یہ کون ہے؟ قائد نے کہا: یہ دنیا کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا، اللہ تَعَالٰی نے اسے دنیا والوں پر شاہی عطا فرمائی تھی لیکن اس نے ظلم و ستم کیا اور سرکش بن گیا۔ جب اللہ تَعَالٰی نے اس کی یہ حالت دیکھی تو اسے موت دے دی اور یہ ایک گرے پڑے پتھر کی مانند بے وقعت ہوگیا، اللہ تَعَالٰی نے اس کے اعمال شمار کرلئے ہیں تاکہ اسے آخرت میں سزا دے۔
پھر اس نے ایک اور کھوپڑی اٹھائی جو بوسیدہ تھی اور کہا: ذوالقرنین جانتے ہو یہ کون ہے؟ ذوالقرنین نے کہا: نہیں ! بتاؤ کون ہے؟ قائد نے کہا: یہ ایک بادشاہ ہے جسے پہلے بادشاہ کے بعد حکومت ملی، یہ اپنے پیشروبادشاہ کا مخلوق پر ظلم و ستم اور زیادتیاں دیکھ چکا تھا لہٰذا اس نے تواضع کی، اللہ کا خوف کیا اور ملک میں عدل و انصاف کرنیکا حکم دیا، پھر یہ بھی مر کر ایسا ہوگیا جیسا تم دیکھ رہے ہو اور اللہ تَعَالٰی نے اس کا شمار فرمالیا ہے، یہاں تک کہ اسے آخرت میں ان کا بدلہ دے گا۔ پھر وہ ذوالقرنین کی کھوپڑی کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا :یہ بھی انہی کی طرح ہے، ذوالقرنین! خیال رکھنا کہ تم کیسے اعمال کررہے ہو؟ ذوالقرنین نے اس کی باتیں سن کر کہا: کیا تم میری دوستی میں رہنا چاہتے ہو؟ میں تمہیں اپنا بھائی اور وزیر یا جو کچھ اللہ تَعَالٰی نے مجھے مال و منال دیا ہے، اس میں اپنا شریک بنالوں گا۔ سردار نے کہا: میں اور آپ صلح