خود ہی بول اٹھا کہ یہ مال ہم تینوں ہی آپس میں برابر برابر تقسیم کرلیتے ہیں ، پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو شہر کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ کھانا خرید لائے۔جس شخص کو انہوں نے شہر کی طرف کھانا لانے کے لئے بھیجا تھا، اس کے دل میں خیال آیا کہ میں اس مال میں ان کو حصہ دار کیوں بننے دوں ؟ میں کھانے میں زہر ملائے دیتا ہوں تاکہ وہ دونوں ہی ہلاک ہوجائیں اور مال اکیلا میں ہی لے لوں ، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔
راوی کہتے ہیں کہ ادھر جو دو آدمی جنگل میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ارادہ کرلیا کہ ہم اسے ایک تہائی کیوں دیں ؟ جونہی وہ آئے ہم اسے قتل کریں اور دولت ہم دونوں آپس میں تقسیم کرلیں ، چنانچہ جب وہ آدمی کھانا لے کر آیا تو انہوں نے اسے قتل کردیا اور بعد میں وہ کھانا کھایا جسے کھاتے ہی وہ دونوں بھی مرگئے اور سونے کی ڈھیریاں اسی طرح پڑی رہیں اور جنگل میں تین لاشیں رہ گئیں ۔
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا پھر وہاں سے گزر ہوا اور ان کی یہ حالت دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے فرمایا: دیکھو یہ دنیا ہے، اس سے بچتے رہنا۔
حکایت:
ذوالقرنین ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جن کے پاس دنیاوی مال و متاع بالکل نہیں تھا، انہوں نے اپنی قبریں تیار کررکھی تھیں ، جب صبح ہوتی تو وہ قبروں کی طرف آتے، ان کی یاد تازہ کرتے، انہیں صاف کرتے اور ان کے قریب نمازیں پڑھتے اور جانوروں کی طرح کچھ گھاس پات کھالیتے اور انہوں نے گزر بسر صرف زمین سے اُگنے والی سبزیوں وغیرہ پر محدود کر رکھی تھی۔ ذوالقرنین نے ان کے سردار کو ایک آدمی بھیج کر بلایا لیکن سردار نے کہا: ذوالقرنین کو جواب دینا کہ مجھے تم سے کوئی کام نہیں ہے، اگر تمہیں کوئی کام ہے تو میرے پاس آجاؤ۔ ذوالقرنین نے یہ جواب سنکر کہا کہ واقعی اس نے سچ کہا ہے۔ چنانچہ ذوالقرنین اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے تمہاری طرف آدمی بھیج کر تمہیں بلایا مگر تم نے انکا رکردیا لہٰذا میں خود آیا ہوں ۔ سردار نے کہا: اگر مجھے تم سے کوئی کام ہوتا توضرور آتا۔ ذوالقرنین نے کہا: میں نے تمہیں ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ کسی اور قوم کو اس حالت میں نہیں دیکھا، سردار نے کہا: آپ کس حالت کی بات کررہے ہیں ؟ ذوالقرنین نے کہا: یہی کہ تمہارے پاس دنیاوی مال و متاع اور مال و منال کچھ بھی نہیں ہے جس