کہ حضرتِ عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے خلیفہ بننے کے بعد ثعلبہ کا انتقال ہوگیا۔(1)
ایک عبرت انگیز واقعہ:
جریر نے لیث سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی صحبت میں آیا اور کہنے لگا: میں آپ کی صحبت میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا ،لہٰذا حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اور وہ آدمی اکٹھے روانہ ہوگئے۔ جب ایک دریا کے کنارے پہنچے تو کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے، ان کے پاس تین روٹیاں تھیں ، جب دو روٹیاں کھاچ کے اور ایک روٹی باقی رہ گئی تو حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام دریا پر پانی پینے تشریف لے گئے۔ جب آپ پانی پی کر واپس تشریف لائے تو روٹی موجود نہیں تھی، آپ نے پوچھا: روٹی کس نے لی ہے؟ وہ آدمی بولا کہ مجھے معلوم نہیں ۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اسے لے کر آگے چل پڑے اور آپ نے ہرنی کو دیکھا جو دو بچے ساتھ لئے جارہی تھی۔ آپ نے اس کے ایک بچے کو بلایا، جب وہ آیا تو آپ نے اسے ذبح کیا اور گوشت بھون کر خود بھی کھایا اور اس شخص کو بھی کھلایا، پھر بچے سے فرمایا: اللہ کے حکم سے کھڑا ہوجا۔ چنانچہ ہرنی کا بچہ کھڑا ہوگیا اور جنگل کی طرف چل دیا، تب آپ نے اِس آدمی سے کہا: میں تجھ سے اُس ذات کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تجھے یہ معجزہ دکھلایا، روٹی کس نے لی تھی؟ وہ آدمی بولا :مجھے معلوم نہیں ہے۔پھر آپ ایک جھیل پر پہنچے اور اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور دونوں سطحِ آب پر چل پڑے، جب پانی عبور کرلیا تو آپ نے اس شخص سے پوچھا: تجھے اس ذات کی قسم! جس نے تجھے یہ معجزہ دکھایا بتا وہ روٹی کس نے لی تھی؟ اس آدمی نے پھر جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔
پھر آپ روانہ ہوگئے اور ایک جنگل میں پہنچے، جب دونوں بیٹھ گئے تو حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے مٹی اور ریت کی ڈھیری بنا کر فرمایا کہ اللہ کے حکم سے سونا ہو جا، چنانچہ وہ سونا بن گئی اور آپ نے اسکی ایک جیسی تین ڈھیریاں بنائیں اور فرمایا: تہائی میری، تہائی تیری اور تہائی اس شخص کی ہے جس نے وہ روٹی لی تھی، تب وہ آدمی بولا:وہ روٹی میں نے لی تھی، آپ نے اس سے فرمایا: یہ سونا تمام کا تمام تیرا ہے اور اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے۔
اس شخص کے پاس دو آدمی آگئے، انہوں نے جب جنگل میں ایک آدمی کو اتنے مال و متاع کے ساتھ دیکھا تو ان کی نیت بدل گئی اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اسے قتل کر کے مال سمیٹ لیں ۔ اس آدمی نے جب ان کی نیت بھانپ لی تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، ۸/۲۱۸، الحدیث۷۸۷۳