Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
424 - 676
میں یہ آیات نازل فرمائیں :
وَمِنْہُمۡ مَّنْ عٰہَدَ اللہَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۷۵﴾ فَلَمَّاۤ اٰتٰىہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖ بَخِلُوۡا بِہٖ وَتَوَلَّوۡا وَّہُم مُّعْرِضُوۡنَ ﴿۷۶﴾ فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَبِمَا کَانُوۡا یَکْذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾
اور بعض ان میں سے وہ ہے کہ جس نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائے گا تو البتہ ہم صدقہ دیں گے اور صالحین میں سے ہوں گے پس جب ان کو اللہ تَعَالٰی نے اپنے فضل سے عطا کیا تو انہوں نے بخل کیا مال کے ساتھ اور پھر گئے اور منہ پھیرنے والے ہیں پس نفاق ان کے دلوں میں قیامت کے دن تک اثر دے گیا بسبب اس کے کہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کے خلاف کیا اور بسبب اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں اس وقت ثعلبہ کا ایک رشتہ دار بیٹھا ہوا تھا، اس نے ثعلبہ کے متعلق نازل ہونے والی آیات کو سنا تو اٹھ کر ثعلبہ کے پاس گیا اور اسے کہا: تیری والدہ ماری جائے! اللہ تَعَالٰی نے تیرے بارے میں فلاں فلاں آیات نازل کی ہیں ، ثعلبہ نے یہ سنا تو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور صدقہ قبول کرنے کی درخواست کی۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: مجھے اللہ تَعَالٰی نے تیرا صدقہ لینے سے منع کردیا ہے۔
	ثعلبہ یہ سنتے ہی اپنے سر میں خاک ڈالنے لگا۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: تیرے یہ کرتوت! میں نے تجھ سے پہلے کہہ دیا تھا مگر تونے میری بات نہیں مانی تھی۔ 
	جب حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے صدقہ لینے سے بالکل انکار کردیا تو وہ اپنے ٹھکانے پر لوٹ آئے، جب حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وصال فرماگئے تو وہ اپنے صدقات لیکر ابوبکر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انہوں نے بھی لینے سے انکار کردیا، پھر حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے دورِ خلافت میں حاضر ہوا مگر انہوں نے بھی انکار کردیا، یہاں تک 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے۔ تو جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔  (پ۱۰،التوبۃ:۷۵ تا ۷۷)