Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
423 - 676
خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا وَصَلِّ عَلَیۡہِمْ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ ؕ (1)
ان کے مال سے صدقہ لیجئے ان کے ظاہر اور باطن کو پاک کیجئے ان کے صدقات اور ان کے لیے دعا کیجئے بے شک آپ کی دعا ان کے لیے تسکین ہے۔
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے جہینہ اور بنو سُلَیْم کے دو آدمیوں کو صدقات کی وصول یابی پر مقرر فرمایا اور انہیں صدقات کے احکامات اور صدقات وصول کرنے کی اجازت لکھ کر روانہ فرمایا کہ جاؤ اور مسلمانوں سے صدقات وصول کر کے لاؤ اور فرمایا کہ ثعلبہ بن حاطب اور فلاں آدمی کے پاس جانا جو بنی سلیم سے تعلق رکھتا ہے اور ان سے بھی صدقات وصول کرنا۔چنانچہ یہ دونوں حضرات ثعلبہ کے پاس آئے اور اسے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان پڑھوا کر صدقات (بکریوں کی زکوٰۃ) کا سوال کیا۔ ثعلبہ نے کہا: یہ تو ٹیکس ہے، یہ تو ٹیکس ہے، یہ تو ٹیکس ہی کی ایک شکل ہے، تم جاؤ، جب تم فارغ ہو چکو تو میرے پاس پھر آنا۔
	پھر یہ حضرات بنو سلیم کے اس آدمی کے پاس آئے جس کے متعلق حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا تھا: جب اس نے سناتو اس نے اپنے اعلیٰ مرتبہ اونٹوں کے پاس جاکر ان میں سے صدقہ کے لئے علیٰحدہ کردیئے اور انہیں لے کر ان حضرات کی خدمت میں آیا، ان حضرات نے جب وہ اونٹ دیکھے تو بولے: تمہارے لئے یہ اونٹ دینا ضروری نہیں ہیں اور نہ ہی ہم تم سے عمدہ اور اعلیٰ اونٹ لینے آئے ہیں ، اس شخص نے کہا: انہیں لے لیجئے، میرا دل انہیں سے خوش ہوتا ہے اور میں یہ آپ ہی کو دینے کے لئے لایا ہوں ۔ 
	جب یہ حضرات صدقات کی وصولی سے فارغ ہوچ کے تو ثعلبہ کے پاس آئے اور اس سے پھر صدقات کا سوال کیا، ثعلبہ نے کہا: مجھے خط دکھاؤ اور اس نے خط دیکھ کر کہا: یہ ٹیکس ہی کی ایک شکل ہے، تم جاؤ تاکہ میں اس بارے میں کچھ غور کرسکوں ، لہٰذا یہ حضرات واپس روانہ ہوگئے اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ان سے بات چیت کرنے سے پہلے محض انہیں دیکھتے ہی فرمایا: اے ثعلبہ افسوس! اور بنو سلیم کے اس شخص کے لئے دعا فرمائی، پھر ان حضرات نے آپ کو ثعلبہ اور سلیمی کے مکمل حالات سنائے، اللہ تَعَالٰی نے ثعلبہ کے بارے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل (وصول) کرو جس سے تم انہیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو بے شک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے ۔ (پ۱۱، التوبہ: ۱۰۳)