Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
422 - 676
باب 59
مذمّت و تخویفِ دنیا 
	حضرتِ ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ثعلبہ بن حاطب نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا:یارسول اللہ! میرے لئے دعا کریں ، اللہ تَعَالٰی مجھے مال دے۔ آپ نے فرمایا: اے ثعلبہ! تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرتا ہے، اس مالِ کثیر سے بہتر ہے جس کا تو شکر ادا نہیں کرسکتا، ثعلبہ نے عرض کیا :یارسول اللہ! میرے لئے اللہ تَعَالٰی سے مال کی دعا کیجئے، آپ نے فرمایا: اے ثعلبہ! کیا تیرے پیش نظر میری زندگی نہیں ہے، کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیری زندگی نبی کی زندگی جیسی ہو، بخدا! اگر میں چاہوں کہ میرے ساتھ سونے اورچاندی کے پہاڑ چلیں تو چلیں گے۔ 
	ثعلبہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے، اگر آپ میرے لئے اللہ سے مال کی دعا کریں تو میں اس مال سے ہر حقدار کا حق پورا کروں گا اور میں ضرور کروں گا، ضرور حقوق ادا کروں گا، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے دعا کی: اے اللہ! ثعلبہ کو مال عطا کر!چنانچہ اس نے بکریاں لیں اور وہ ایسے بڑھیں کہ جیسے حشرات الارض بڑھتے ہیں اور ان کے لئے مدینہ میں رہنا مشکل ہوگیا۔
	 چنانچہ ثعلبہ مدینہ سے نکل کر مدینہ کے قریب ایک وادی میں آگیا اور تین نمازیں چھوڑ کر صرف دو نمازیں ظہر اور عصر جماعت کے ساتھ پڑھنے لگا، بکریاں اور بڑھیں اور وہ کچھ اور دور ہوگیا یہاں تک کہ وہ صرف نمازِ جمعہ میں شریک ہوتا اور بکریاں برابر بڑھتی گئیں تاآنکہ ان کی مصروفیت کی وجہ سے اس کی جمعہ کی جماعت بھی چھوٹ گئی اور وہ جمعہ کے دن مدینہ سے آنے والے سواروں سے مدینہ کے حالات پوچھ لیتا اور حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس کے متعلق پوچھا کہ ثعلبہ بن حاطب کا کیا بنا؟ عرض کی گئی کہ یارسول اللہ! اس نے بکریاں لیں اور وہ اتنی بڑھیں کہ ان کامدینہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور اس کے تمام حالات بتلائے گئے۔ آپ نے سن کر فرمایا: اے ثعلبہ! افسوس! … اے ثعلبہ! افسوس!… افسوس!… اے ثعلبہ!راوی کہتے ہیں کہ تب قرآنِ مجید کی یہ آیت نازل ہوئی: