کسی دانا نے اپنے دوست سے کہا: تجھے داعی نے سب کچھ سنا دیا اور بلانے والے نے سب کچھ واضح کردیا، اس شخص سے بڑھ کر اور کوئی مصیبت میں مبتلا نہیں جس نے یقین کامل کو گنوا دیا اور غلط کاریوں میں مشغول ہوا۔
حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ خوفِ الٰہی کے لئے علم اور تکبر و غرور کے لئے جہالت کافی ہے۔
فرمانِ نبوی ہے کہ جس نے دنیا سے محبت رکھی اور اس کی زیب و زینت سے مسرور ہوا، اس کے دل سے آخرت کا خوف نکل گیا۔(1)
بعض علماء کا قول ہے کہ بندہ سے مال و دولت کے چلے جانے پر رنج و غم کرنے اور مال و دولت کی فراوانی میں خوشی پر محاسبہ کیا جائے گا۔
بعض سلف صالحین جنہیں اللہ تَعَالٰی نے دنیا دی تھی، وہ حرام کردہ باتوں سے تم سے زیادہ بچنے والے تھے اور جو کام کرنا تمہیں مناسب نظر نہیں آتا وہ ان کے نزدیک مہلک ترین سمجھے جاتے تھے۔
حضرتِ عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ بسا اوقات مسعر بن کدام رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے یہ اَشعار پڑھا کرتے تھے: ؎
نہارک یامغرور نوم وغفلۃ ولیلک نوم والردی لک لازم
یغر ک ما یفنی وتفرح بالمنی کما غر باللذات فی النوم حالم
وشغلک فیہا سوف تکرہ غبہ کذلک فی الدنیا تعیش البہائم
{1}…اے فریب خوردہ !تیرا دن نیند اور غفلت میں اور تیری رات سونے میں پوری ہوتی ہے اور موت تیرے لئے لازمی ہے۔
{2}…زائل شدہ مال تجھے فریب میں ڈالتا ہے اور امیدیں پاکر تو بہت خوش ہوتا ہے جیسے خواب دیکھنے والا خواب میں لطف اندوز ہوتا ہے۔
{3}…عنقریب تو اپنی اس دنیاوی مشغولیت کو برا سمجھے گا، ایسی زندگی تو دنیا میں جانوروں کی ہوتی ہے۔
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ ابن ا بی الدنیا،کتاب ذم الدنیا،۵/۵۲، الحدیث۷۹ و حلیۃ الاولیاء، أحمد بن أبی الحواری ، ۱۰/۲۱، الحدیث۱۴۳۵۵